پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ توڑ تیزی، سرمایہ کار خوش

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی کا رجحان برقرار ہے اور مارکیٹ روز بروز نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ حالیہ کاروباری دن کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کر دیے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 79 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کر گیا، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

کاروبار کے دوران مارکیٹ میں زبردست خریداری دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں ہنڈریڈ انڈیکس میں 2 ہزار 500 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس غیر معمولی تیزی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایک ہی دن میں تین اہم نفسیاتی حدود عبور کر لیں، جو ملکی سرمایہ کاری کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث سرمایہ کاروں کے چہروں پر اطمینان اور اعتماد واضح طور پر دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں اس شاندار تیزی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں معاشی اشاریوں میں بہتری، حکومتی پالیسیوں میں تسلسل، مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی اور شرح سود سے متعلق مثبت توقعات شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مارکیٹ میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، جس نے انڈیکس کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کاروباری حلقوں کے مطابق بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، آئل اینڈ گیس اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹرز میں بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث مارکیٹ کو مجموعی طور پر سہارا ملا۔ خاص طور پر بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے اعتماد کے اظہار نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھی مارکیٹ میں متحرک کر دیا ہے، جس سے لین دین کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ سے بھی مثبت خبریں سامنے آئی ہیں۔ امریکی ڈالر کی قدر میں 2 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 270 روپے 10 پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ روپے میں اس معمولی مگر اہم استحکام کو بھی معاشی بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کرنسی مارکیٹ میں استحکام اسٹاک مارکیٹ پر مثبت اثر ڈالتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور روپے میں استحکام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ ان کے مطابق حکومتی اصلاحاتی اقدامات، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت اور مالی نظم و ضبط نے مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی موجودہ کارکردگی خطے کی دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں نمایاں ہے، جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ اگر موجودہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا اور معاشی استحکام مزید مضبوط ہوا تو مستقبل میں مارکیٹ مزید ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں سیاسی اور معاشی بے یقینی کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا رہا، تاہم حالیہ دنوں میں حالات نسبتاً بہتر ہونے کے باعث اعتماد بحال ہوا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے اور کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرے تو اسٹاک مارکیٹ ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہو سکتی ہے۔

عوامی اور کاروباری حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی یہ تیزی صنعتی سرگرمیوں میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور مجموعی معاشی ترقی کا باعث بنے گی۔ تاہم ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ سرمایہ کار احتیاط اور درست معلومات کی بنیاد پر فیصلے کریں تاکہ کسی ممکنہ اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔

مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ ریکارڈ ساز تیزی، ہنڈریڈ انڈیکس کا ایک لاکھ 79 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنا اور روپے میں استحکام ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ درست پالیسیوں اور معاشی نظم و ضبط کے ذریعے معیشت کو بہتری کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج مزید نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]