سعودی قیادت میں نئے علاقائی اتحاد کی رپورٹس، پاکستان بھی ممکنہ شراکت دار قرار

سعودی قیادت میں نیا اتحاد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سعودی قیادت میں نئے علاقائی اتحاد کی رپورٹس، پاکستان سمیت کئی ممالک کا ذکر

امریکی جریدے فارن پالیسی کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی اتحاد کی تشکیل سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں پاکستان، قطر، ترکیہ اور مصر کو ممکنہ شراکت دار ممالک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خلیجی ممالک کی سلامتی، توانائی کی برآمدات اور علاقائی استحکام سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا، جس کے بعد بعض ممالک نے نئے سفارتی اور سیکیورٹی تعاون کے امکانات پر غور شروع کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ممکنہ تعاون خلیج تعاون کونسل (GCC) کے روایتی دائرہ کار سے باہر ہو سکتا ہے، جس میں سعودی عرب کے ساتھ قطر، مصر، پاکستان اور ترکیہ کا کردار نمایاں بتایا گیا ہے۔

بعض اسرائیلی میڈیا رپورٹس نے اس ممکنہ تعاون کو "اسلامک نیٹو” سے تشبیہ دی ہے، تاہم اس اصطلاح کی کسی بھی شریک ملک یا سعودی حکومت کی جانب سے سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ممکنہ صف بندی میں متحدہ عرب امارات (UAE) کا کردار نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے، تاہم اس حوالے سے بھی کسی سرکاری سطح پر وضاحت سامنے نہیں آئی۔

اب تک سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکیہ یا مصر کی حکومتوں کی جانب سے ایسے کسی نئے عسکری یا دفاعی اتحاد کے قیام کا باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سفارتی صورتحال کے باعث مختلف ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ممکن ہے، تاہم کسی بھی نئے اتحاد کے قیام کی تصدیق صرف سرکاری اعلانات کے بعد ہی کی جا سکتی ہے

READ MORE FAQS
  1. کیا سعودی عرب نے نئے اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا ہے؟

اب تک ایسا کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

  1. یہ خبر کس رپورٹ پر مبنی ہے؟

یہ امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ میں بیان کیے گئے نکات پر مبنی ہے۔

  1. کن ممالک کا نام لیا گیا ہے؟

رپورٹ میں سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکیہ اور مصر کا ذکر کیا گیا ہے۔

  1. "اسلامک نیٹو” کی اصطلاح کس نے استعمال کی؟

بعض اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں یہ اصطلاح استعمال کی گئی، تاہم اس کی سرکاری توثیق موجود نہیں

متعلقہ خبریں