استنبول : پاکستان اور عرب وزرائے خارجہ کی غزہ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اجلاس اور لائحہ عمل پر غور

ا غزہ امن کے لیےپاکستان اور عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس

نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار سمیت عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، اور تعمیرِ نو کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

غزہ اجلاس استنبول میں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی شرکت غزہ جنگ بندی معاہدے پر غور

استنبول میں غزہ اجلاس، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک

ترکیہ کے شہر استنبول میں غزہ اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں غزہ جنگ بندی معاہدے، اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی واپسی 2025: اسلام آباد میں شاندار استقبال، فلسطین سے اظہارِ یکجہتی

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر والہانہ استقبال

اردن سے وطن واپس پہنچنے پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ عوام نے ان پر پھول نچھاور کیے جبکہ فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے نعرے بلند کیے گئے۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ فلسطین کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

گریٹا تھنبرگ سمیت گلوبل صمود امدادی فلوٹیلا کے 171 ارکان ڈی پورٹ

گریٹا تھنبرگ

اسرائیل نے گلوبل صمود امدادی فلوٹیلا کے 171 ارکان، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں، کو ملک بدر کر دیا۔ ان افراد کو یونان اور سلوواکیہ منتقل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر فلوٹیلا کو روکا تھا۔

غزہ جانے والے امدادی فوٹیلا پر حملہ، اٹلی اور اسپین کے حفاظتی بحری جہاز روانہ

غزہ جانے والے امدادی فوٹیلا پر حملہ، اٹلی اور اسپین کے حفاظتی بحری جہاز روانہ

غزہ جانے والی بین الاقوامی امدادی فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد اٹلی اور اسپین نے اپنی بحریہ کے جہاز روانہ کر دیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق متعدد کشتیاں نشانہ بنیں اور کمیونی کیشن سسٹم متاثر ہوا، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور یورپی ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔