عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا سستا، فی تولہ 900 روپے کم
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں کی توجہ ایک بار پھر قیمتی دھاتوں کی جانب مبذول ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 9 ڈالر کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد سونے کی نئی عالمی قیمت 4 ہزار 325 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ہے۔ عالمی سطح پر قیمت میں اس کمی کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کے دیگر ذرائع کی جانب رجحان شامل بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں میں بھی واضح طور پر نظر آئے۔ پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں ایک دن کے وقفے کے بعد آج سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ 24 قیراط خالص سونے کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 900 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 54 ہزار 862 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 772 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 لاکھ 89 ہزار 970 روپے مقرر کی گئی ہے۔ صرافہ مارکیٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے خریدار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ سرمایہ کار مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 52 روپے کم ہو کر 6 ہزار 848 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت میں 44 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 5 ہزار 871 روپے ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہ کمی وقتی بھی ہو سکتی ہے، تاہم عالمی سطح پر معاشی دباؤ، شرحِ سود میں ممکنہ تبدیلیاں اور جیو پولیٹیکل حالات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مزید کمی ہوئی تو مقامی مارکیٹ میں بھی اس کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باعث خریداروں کی دلچسپی میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے سیزن میں۔ تاہم مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث عام صارف اب بھی بڑے پیمانے پر خریداری سے گریز کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعین عالمی بلین مارکیٹ کے نرخ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور مقامی ٹیکسز کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر ہونے والی معمولی تبدیلی بھی مقامی مارکیٹ میں نمایاں اثرات پیدا کر دیتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں سرمایہ کار محتاط حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں اور عام خریدار قیمتوں میں مزید کمی کے انتظار میں نظر آ رہا ہے۔


One Response