چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کو لے کر خلا میں روانہ، یہ راکٹ چین کے کمرشل اور سویلین اسپیس پروگرام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے
وین چھانگ، (رئیس الاخبار) : چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے لانگ مارچ-8 اے کیریئر راکٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے ایک نئے گروپ کو کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ جمعہ کی صبح 7 بج کر 26 منٹ (بیجنگ وقت) جنوبی جزیرہ صوبہ ہائی نان میں واقع کمرشل اسپیس کرافٹ لانچ سائٹ سے فضا میں بلند ہوا۔ لانچ کے بعد راکٹ نے اپنے تمام پے لوڈز کو کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس مشن کے دوران نچلے مدار میں گردش کرنے والے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے 17ویں گروپ کو خلا میں بھیجا گیا، جو چین کے بڑھتے ہوئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ ان سیٹلائٹس کا مقصد عالمی سطح پر انٹرنیٹ کوریج کو بہتر بنانا اور جدید مواصلاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔
چینی خلائی حکام کا کہنا ہے کہ چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اسے خاص طور پر نچلے مدار میں سیٹلائٹس کی ترسیل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ راکٹ چین کے کمرشل اور سویلین اسپیس پروگرام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے مسلسل سیٹلائٹ لانچز عالمی خلائی دوڑ میں اس کے مضبوط ہوتے کردار کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کی تعیناتی ڈیجیٹل رابطوں اور عالمی کمیونیکیشن کے مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ لانچ چین کے خلائی مشنز کی طویل فہرست کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے بیجنگ نہ صرف اپنے خلائی انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی میں اپنی موجودگی بھی مضبوط کر رہا ہے۔
A sixth Long March 8A snuck in before the end of the year to launch another set of GuoWang satellites into low Earth orbit a few hours ago
Details -> https://t.co/RQ9PvPuCbj pic.twitter.com/iZqIegJpQT
— Phazzee 🐼🚀 | 中国航天 🇨🇳 | 🇵🇸🏳️⚧️🏳️🌈 (@PhazzeeYeehaw) December 26, 2025