وینزویلا: نوبیل امن انعام یافتہ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی کا اعلان، عبوری حکومت پر شدید تنقید

نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی کا اعلان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وینزویلا: نوبیل امن انعام یافتہ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی کا اعلان، عبوری حکومت پر شدید تنقید

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو اپنے وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بیان گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر دیے گئے مؤقف کے بعد ان کا پہلا عوامی ردعمل ہے۔ ماریا کورینا ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا، جس کے بعد ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی نہیں ہوئی تھی۔

ماچاڈو نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو نامعلوم مقام سے دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپسی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور ملک میں سیاسی جدوجہد کو براہِ راست آگے بڑھائیں گی۔

ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی کے اعلان کے ساتھ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کے نظام کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔ ماریا کورینا ماچاڈو کے مطابق وینزویلا کے عوام ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز کی واضح اکثریت اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے۔

ماچاڈو نے دعویٰ کیا کہ اگر ملک میں آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جائیں تو اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرے گی، اور انہیں اس حوالے سے کسی قسم کا شک نہیں۔

امریکی عدالت نے صدر نکولس مادورو پر فردِ جرم عائد کر دی
امریکی عدالت میں نکولس مادورو پر فرد جرم عائد

اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی کے اعلان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ اور بدعنوان ڈھانچوں کا خاتمہ کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو سیاسی و معاشی حالات کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ٹرمپ سے رابطے کی وضاحت

ماریا کورینا ماچاڈو نے انکشاف کیا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق آخری گفتگو اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ناروے کی نوبیل کمیٹی کے مطابق یہ انعام ماچاڈو کو آمریت کے خلاف جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا۔ ماچاڈو نے امریکی اقدامات کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

تاہم اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں وینزویلا کے اندر خاطر خواہ عوامی حمایت یا احترام حاصل نہیں۔

سی آئی اے کی مبینہ خفیہ رپورٹ

دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ، جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، میں کہا گیا ہے کہ مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار میں ممکنہ تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی جائزے کی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کی باضابطہ تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدہ بریفنگ دی جاتی ہے اور فیصلے امریکا کے مفادات اور وینزویلا کے عوام کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]