عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی، تولہ سونا 1200 روپے سستا
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گزشتہ دو روزہ تیزی کے بعد ایک بار پھر مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں میں ملا جلا ردعمل پایا جا رہا ہے۔ عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر اور سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔
آل صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ 24 کیرٹ فی تولہ سونے کی قیمت میں 1200 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 66 ہزار 762 روپے کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 1028 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد دس گرام سونا 4 لاکھ 173 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ دو دنوں کے دوران قیمتوں میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم اب عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ صرافہ بازاروں میں خریدار محتاط نظر آ رہے ہیں جبکہ سرمایہ کار صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ مقامی مارکیٹ میں چاندی کی فی تولہ قیمت 8361 روپے پر برقرار رہی۔ صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونے کی قیمت میں کمی آئی ہے، تاہم چاندی کی قیمت اس وقت مستحکم ہے، جس کی وجہ طلب و رسد میں توازن اور عالمی مارکیٹ میں چاندی کے نرخوں میں محدود اتار چڑھاؤ بتایا جا رہا ہے۔
اگر عالمی منڈی کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 12 ڈالر سستا ہو کر 4444 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں کمی کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی بہتری، عالمی شرح سود سے متعلق خدشات اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کے بجائے دیگر منافع بخش شعبوں کی جانب رجحان شامل ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود بعض سرمایہ کار سونے سے وقتی طور پر نکل کر اسٹاک مارکیٹس یا دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سیاسی حالات میں قدرے استحکام بھی سونے کی مانگ میں کمی کا سبب بن رہا ہے، کیونکہ سونا عموماً غیر یقینی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
مقامی صرافہ بازاروں میں تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باعث عام خریداروں کی دلچسپی میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے سیزن کے پیش نظر سونا خریدنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ متوقع ہے۔ تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ میں خرید و فروخت کا رجحان محتاط ہے اور لوگ مزید کمی یا استحکام کے انتظار میں ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مزید نیچے جاتی ہے تو مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ تاہم ڈالر کی قدر، درآمدی لاگت اور مقامی ٹیکس پالیسیز جیسے عوامل سونے کی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کسی حتمی پیش گوئی سے گریز کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ تبدیلیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ اس وقت عالمی اور مقامی معاشی حالات کے زیرِ اثر ہے۔ آئندہ دنوں میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کی نظریں عالمی مارکیٹ، ڈالر کی حرکت اور معاشی پالیسیوں پر مرکوز رہیں گی، جو سونے اور چاندی کی قیمتوں کے اگلے رجحان کا تعین کریں گی۔


One Response