سونے کی قیمت میں نیا ریکارڈ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز

سونے کی قیمت میں نیا ریکارڈ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز

ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس کے بعد قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر آج بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے خریداروں، سرمایہ کاروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہی دن میں 7 ہزار 700 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچتے ہوئے 4 لاکھ 80 ہزار 962 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس نمایاں اضافے نے نہ صرف سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں بلکہ سونے کو عام شہری کی پہنچ سے مزید دور کر دیا ہے۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 گرام سونا 6 ہزار 602 روپے مہنگا ہو گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 12 ہزار 347 روپے مقرر کی گئی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اس تیز رفتار اضافے نے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے زیورات خریدنے والوں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 37 ڈالر مہنگا ہو کر 4509 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا تھا، جو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور غیر یقینی معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ براہ راست مقامی صرافہ بازار پر اثر انداز ہوا۔

مقامی صرافہ مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر ایک تولہ سونا 3 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 73 ہزار 262 روپے کا ہو گیا تھا، جب کہ 10 گرام سونا 3 ہزار 172 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 5 ہزار 745 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ ایک تولہ چاندی کی قیمت میں بھی 270 روپے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد چاندی کی فی تولہ قیمت 8 ہزار 465 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

آج کے تازہ اضافے کے بعد چاندی کی قیمتوں میں بھی استحکام کے بجائے تیزی کا رجحان برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار صرف سونے ہی نہیں بلکہ دیگر قیمتی دھاتوں کو بھی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتیں اکثر سونے کے رجحان کو فالو کرتی ہیں، تاہم صنعتی استعمال کے باعث اس میں اتار چڑھاؤ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مجموعی معاشی غیر یقینی صورتحال اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی شرح سود، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگی حالات اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کو غیر محفوظ اثاثوں سے نکال کر سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب راغب کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب بھی عالمی سطح پر معاشی یا سیاسی بے یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو “سیف ہیون” کے طور پر اختیار کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور مختلف کرنسیوں کی قدر میں کمی نے بھی سونے کی مانگ کو بڑھایا ہے۔

مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں روپے میں نسبتی استحکام دیکھا گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر درآمدی لاگت، ٹیکسز اور عالمی قیمتوں کا دباؤ مقامی صرافہ مارکیٹ کو متاثر کر رہا ہے۔ چونکہ پاکستان میں سونے کی بڑی مقدار درآمد کی جاتی ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مقامی مارکیٹ میں نمایاں فرق پیدا کر دیتا ہے۔

زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق خریداروں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے اور زیادہ تر لوگ زیورات خریدنے کے بجائے پرانے زیورات فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شادیوں کے سیزن کے باوجود مارکیٹ میں وہ رونق نظر نہیں آ رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔

دوسری جانب سرمایہ کار طبقہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک مثبت موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں سونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ ذریعہ ہے، تاہم ماہرین سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق قیمتوں میں تیزی کے بعد اچانک مندی کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

عوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ سونا نہ صرف زیورات بلکہ ایک روایتی بچت اور سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سونا خریدنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی حالات میں بہتری آتی ہے، مہنگائی میں کمی ہوتی ہے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کم ہوتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں استحکام یا معمولی کمی آ سکتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہے، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاروں کے رویے اور مقامی معاشی عوامل کا عکاس ہے۔ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ کے رجحان، کرنسی کی صورتحال اور معاشی پالیسیوں پر ہوگا، تاہم فی الحال قیمتی دھاتیں سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]