سونے کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی اور مقامی مارکیٹ میں گولڈ ریٹ میں تیزی

سونے کی قیمتوں میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، سرمایہ کار متوجہ

عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام خریداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری بے یقینی، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات براہِ راست قیمتی دھاتوں، بالخصوص سونے اور چاندی کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 9 امریکی ڈالر فی اونس کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد سونے کی قیمت 4595 ڈالر فی اونس کی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی معیشت میں عدم استحکام، شرحِ سود سے متعلق خدشات اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کا نتیجہ ہے۔ سونا ہمیشہ سے ایک محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا رہا ہے، اور جب بھی عالمی سطح پر معاشی یا سیاسی بے یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار دیگر ذرائع سے نکل کر سونے کی طرف رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اضافے کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں پر بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 900 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 81 ہزار 862 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ یہ قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین قیمتوں میں شمار کی جا رہی ہے، جس نے عام صارف کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 771 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 13 ہزار 118 روپے میں دستیاب ہے۔ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اس تیزی سے اضافے نے زیورات کی خرید و فروخت کو بھی سست روی کا شکار کر دیا ہے۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے سونے کے زیورات کی مانگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔ ایک جانب عالمی سطح پر ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے، تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے دباؤ نے بھی سونے کی قیمت کو اوپر کی جانب دھکیلا ہے۔

پاکستانی معیشت کے تناظر میں دیکھا جائے تو روپے کی قدر میں کمی بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب مقامی کرنسی کمزور ہوتی ہے تو درآمد شدہ اشیاء، بشمول سونا، مہنگی ہو جاتی ہیں۔ چونکہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ اور ڈالر ریٹ کے مطابق کیا جاتا ہے، اس لیے روپے کی قدر میں کمی براہِ راست سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک تولہ چاندی کی قیمت میں 180 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ایک تولہ چاندی 9075 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ چاندی نہ صرف زیورات بلکہ صنعتی استعمال میں بھی اہم مقام رکھتی ہے، اور عالمی سطح پر اس کی طلب میں اضافے نے اس کی قیمت کو بھی اوپر کی جانب دھکیلا ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر موجودہ حالات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معیشت میں استحکام آیا اور شرحِ سود میں واضح پالیسی سامنے آئی تو قیمتوں میں وقتی کمی بھی ممکن ہے۔

عام صارفین کے لیے سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سونے کے زیورات خریدنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شادیوں کے سیزن میں سونے کی قیمتوں میں اضافے نے والدین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ جیولری انڈسٹری بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی اور مقامی معاشی عوامل کا نتیجہ ہے۔ جب تک عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی صورتحال میں بہتری نہیں آتی اور مقامی سطح پر کرنسی مستحکم نہیں ہوتی، تب تک قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں استحکام آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ سرمایہ کاروں اور خریداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری سے قبل ماہرین کی رائے کو ضرور مدنظر رکھیں

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]