چاندی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر، عالمی اور پاکستانی مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ
پاکستان سمیت دنیا بھر میں قیمتی دھاتوں کی منڈی میں غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں چاندی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں 7.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی اونس قیمت 93 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ کسی عارضی رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی تیزی کا تسلسل ہے جو سال 2025 کے آغاز سے مسلسل جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ صرف 13 ماہ کے دوران چاندی کی قیمتوں میں 210 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جو عالمی مالیاتی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس تیزی نے سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور عام صارفین سب کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی اب محض زیورات یا صنعتی استعمال تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے ایک مضبوط سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ ایک بڑی وجہ عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب تیزی سے رجوع کر رہے ہیں۔ چاندی، سونے کے ساتھ ساتھ، ایک محفوظ اثاثہ سمجھی جاتی ہے، اسی لیے عالمی سرمایہ کار بڑی تعداد میں چاندی کی خریداری کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ گرین انرجی، الیکٹرک وہیکلز، سولر پینلز اور جدید ٹیکنالوجی میں چاندی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی اس دھات کی طلب میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق آئندہ برسوں میں چاندی کی طلب مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی عالمی رجحانات کے براہ راست اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ملک میں چاندی کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ روز فی تولہ چاندی کی قیمت 9575 روپے کی سطح تک جا پہنچی، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین قیمتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ صرافہ بازاروں میں چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام خریداروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ چاندی کے ساتھ ساتھ سونے کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 4 لاکھ 86 ہزار 162 روپے تک پہنچ چکی ہے، جو عام آدمی کی پہنچ سے کہیں باہر ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت فی اونس 4638 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور مالیاتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں بیک وقت اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا بھر میں افراطِ زر، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، کرنسیوں کی قدر میں کمی اور شرح سود کے حوالے سے بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار کاغذی اثاثوں کے بجائے حقیقی اور محفوظ اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پاکستانی معیشت پر اس صورتحال کے کئی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ سرمایہ کار جو پہلے ہی سونے یا چاندی میں سرمایہ کاری کر چکے تھے، انہیں بھاری منافع حاصل ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب زیورات خریدنے والے عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے سونے اور چاندی کے زیورات خریدنا اب متوسط طبقے کے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث خریداری کا رجحان کم ہو رہا ہے، جبکہ سرمایہ کاری کے مقصد سے خریداری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو زیورات کی صنعت کو طویل المدتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کے بعد وقتی اتار چڑھاؤ کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو جذباتی فیصلوں کے بجائے محتاط حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چاندی اور سونے کی قیمتوں میں حالیہ تاریخی اضافہ عالمی اور مقامی معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رجحان جہاں سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا کر رہا ہے، وہیں عام صارفین کے لیے نئے معاشی چیلنجز بھی جنم دے رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں عالمی معیشت کی سمت، شرح سود کے فیصلے اور جغرافیائی سیاسی حالات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا قیمتی دھاتوں کی یہ تیزی برقرار رہتی ہے یا مارکیٹ کسی نئی سمت کا رخ کرتی ہے۔

