سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، فی تولہ سونا ہزاروں روپے سستا

سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، پاکستان میں گولڈ ریٹ میں بڑی گراوٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ملک کی تاریخ میں سونے کی قیمت میں سب سے بڑی کمی، خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری

ملک کی معاشی تاریخ میں سونے کی قیمت میں ایک غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام صارفین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہی دن میں 35 ہزار 500 روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔ یہ کمی ملکی تاریخ میں سونے کی قیمت میں ہونے والی سب سے بڑی کمی قرار دی جا رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف فی تولہ ہی نہیں بلکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 10 گرام سونا 30 ہزار 435 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس اچانک اور بڑی کمی نے زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد، شادی بیاہ کی تیاری کرنے والے خاندانوں اور سرمایہ کاری کے شوقین افراد کے لیے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں اس قدر نمایاں کمی کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں شدید گراوٹ ہے۔ عالمی سطح پر سونے کا بھاؤ 355 ڈالر فی اونس کم ہو کر 5150 ڈالر فی اونس پر آ گیا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں یہ کمی عالمی معاشی حالات، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے رجحانات میں تبدیلی کے باعث سامنے آئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ دو روز کے دوران سونے کی قیمت میں 42 ہزار روپے سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس اچانک اضافے کے بعد اتنی بڑی کمی نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ زیورات کے تاجر اس صورتحال کو مارکیٹ کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دے رہے ہیں، کیونکہ قیمتوں میں اس قدر تیزی سے اتار چڑھاؤ کاروباری منصوبہ بندی کو متاثر کرتا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال موجود ہو۔ تاہم حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر معاشی اشاریوں میں بہتری، شرح سود سے متعلق قیاس آرائیاں اور سرمایہ کاروں کا سونے کے بجائے دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب رجحان سونے کی قیمت میں کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

دوسری جانب عام شہری اس کمی کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ خاندان جو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے، اس کمی کے بعد مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم بعض صارفین تذبذب کا شکار بھی ہیں اور یہ انتظار کر رہے ہیں کہ آیا قیمتوں میں مزید کمی ہو گی یا نہیں۔

جیولرز کا کہنا ہے کہ اگر سونے کی قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو مارکیٹ میں خرید و فروخت کا حجم بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم اگر یہی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو خریدار اور سرمایہ کار دونوں محتاط رویہ اپنائیں گے۔ بعض تاجروں کے مطابق قیمتوں میں اچانک کمی کے باعث انہیں مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ انہوں نے زیادہ قیمت پر سونا خریدا تھا۔

ماہرین یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا دارومدار صرف عالمی مارکیٹ پر ہی نہیں بلکہ مقامی عوامل جیسے ڈالر کی قیمت، ٹیکس پالیسی، درآمدی اخراجات اور مارکیٹ کی طلب و رسد پر بھی ہوتا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں استحکام رہا اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مزید کم ہوئی تو مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے کی قیمت میں حالیہ تاریخی کمی نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ صورتحال ایک طرف خریداروں کے لیے موقع ثابت ہو سکتی ہے تو دوسری جانب تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت کس سمت جاتی ہے، اس کا انحصار عالمی معاشی حالات، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مقامی مالیاتی پالیسیوں پر ہو گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]