وزیراعظم کی ہدایت پر ٹول ٹیکس اضافہ واپس، شہریوں کو ریلیف دینے کا اعلان
ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس لینے کا اہم فیصلہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور موٹرویز پر مجوزہ ٹول ٹیکس میں اضافہ نہ صرف روک دیا گیا بلکہ اس سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے این ایچ اے حکام کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، ایسے میں ٹول ٹیکس بڑھانا عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا اور فوری طور پر ہدایت جاری کی کہ ٹول ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے تاکہ عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس ہدایت کے بعد این ایچ اے کی جانب سے یکم اپریل کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا۔
ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس لینے کے فیصلے کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، کیونکہ حالیہ مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پہلے ہی ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر ٹول ٹیکس میں اضافہ نافذ ہو جاتا تو اس کا اثر نہ صرف مسافروں بلکہ اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل پر بھی پڑتا، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت عوامی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے مسائل کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے اور پوری قوم مل کر ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ این ایچ اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ٹول پلازہ فیس میں کسی قسم کا اضافہ نہ کیا جائے۔ یہ فیصلہ نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرے گا بلکہ مستقبل میں بھی عوام کو کسی اضافی مالی بوجھ سے بچائے گا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس لینے کا فیصلہ قلیل مدتی طور پر عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، تاہم حکومت کو اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے دیگر ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ این ایچ اے کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ٹول ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے اس فیصلے کے مالی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ افراد نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بس اور ٹرک ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ ٹول ٹیکس میں اضافہ ان کے اخراجات کو بڑھا دیتا، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوتا۔ اس فیصلے سے نہ صرف ان کے اخراجات میں استحکام آئے گا بلکہ کرایوں میں اضافے کا امکان بھی کم ہو جائے گا۔
مزید برآں، کاروباری برادری نے بھی اس فیصلے کو مثبت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹیشن لاگت میں استحکام سے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملے گی، جو کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں نہایت اہم ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ عوامی دباؤ اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس لینا ایک ایسا قدم ہے جو عوامی ریلیف کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ یہ فیصلہ وقتی طور پر عوام کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن طویل مدتی طور پر حکومت کو ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ این ایچ اے کو سڑکوں اور موٹرویز کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے متبادل مالی وسائل تلاش کرنا ضروری ہوگا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس لینے کا فیصلہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا عکاس ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو فوری ریلیف ملا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کو ترجیح دیتی ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔


One Response