عالمی تنہائی کے شکار اسرائیلی وزیراعظم کا مودی حکومت کو خراجِ تحسین، بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دے دیا
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا ایک انتہائی اہم اور چونکا دینے والا بیان سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر میں اسرائیل کو شدید سفارتی تنقید اور تنہائی کا سامنا ہے، لیکن ایسے نازک وقت میں نیتن یاہو نے ہندوستانی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کی کھل کر تعریف کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں ان کا ملک جتنا بھی تنہا ہو، لیکن بھارت اور اسرائیل کے تعلقات ایک ایسی مضبوط ڈھال ہیں جو انہیں ہر محاذ پر سہارا دے رہی ہے۔
بینجمن نیتن یاہو نے نئی دہلی اور تل ابیب کے مابین بڑھتے ہوئے اس گٹھ جوڑ کو سراہتے ہوئے اسے موجودہ حالات میں بھارت اور اسرائیل کے تعلقات اسرائیل کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک طاقت قرار دیا ہے۔
عالمی تنہائی کا اعتراف اور نئی دہلی سے توقعات
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، غزہ، لبنان اور ایران پر مسلسل حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو نے خود اعتراف کیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں اسرائیل کی قانونی حیثیت اور جنگی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بہت سے روایتی اتحادی بھی ان سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن ان تمام تر ناموافق عالمی حالات کے باوجود بھارت اور اسرائیل کے تعلقات میں کوئی سرد مہر ی نہیں آئی۔
اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق، مودی حکومت نے ہر مشکل وقت میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود نئی دہلی کے ساتھ ان کا سفارتی اور دفاعی گٹھ جوڑ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
‘دیوانہ وار محبت اور تعاون’ کا تذکرہ
مغربی کنارے (West Bank) میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینجمن نیتن یاہو نے ہندوستانی عوام اور وہاں کی سیاسی قیادت کے رویے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ دنیا کے دیگر خطوں کے برعکس، بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو عوامی سطح پر بھی زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ “ہمیں بھارت میں اسرائیل کے لیے ایک دیوانہ وار اور انتہائی جنونی تعاون مل رہا ہے، جو دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔”
انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے ذاتی اور دوستانہ مراسم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر مودی کے فالوورز کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اور ان کے حامی اسرائیل کی پالیسیوں کا کھل کر دفاع کرتے ہیں، جو ہمارے گرتے ہوئے عالمی امیج کو سنبھالنے میں مددگار ہے۔
نئی دہلی کا دورہ اور ‘محبت کا جشن’
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسرائیلی قیادت نے نئی دہلی کی محبت کا دم بھرا ہو۔ نیتن یاہو نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ماضی کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سال 2018 میں جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہندوستان کے سرکاری دورے پر گئے تھے، تو وہ دورہ کسی روایتی سفارتی دورے جیسا نہیں تھا بلکہ وہ ہمارے لیے ‘لوو فیسٹ’ یعنی محبت کا ایک بہت بڑا جشن تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی 1.4 ارب آبادی والے ملک میں اسرائیل کی مقبولیت اور نریندر مودی کی پسندیدگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات محض کاغذی یا تجارتی نہیں ہیں، بلکہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کی جڑیں دونوں ممالک کے اسٹریٹجک اور نظریاتی مفادات میں بہت گہری ہو چکی ہیں۔
دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری کا مستقبل
سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ بیان عالمی برادری کو یہ پیغام دینے کے لیے ہے کہ اسرائیل دنیا میں مکمل طور پر اکیلا نہیں ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات پچھلے چند برسوں میں تیزی سے فوجی ہتھیاروں کی خرید و فروخت، انٹیلیجنس شیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے بڑھے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری عالمی یوم امن پیغام: اسرائیل و بھارت کی جارحیت ختم کی جائے
جہاں ایک طرف دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں جنگ بندی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں، وہیں مودی سرکار کا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا ان دونوں ممالک کے گہرے گٹھ جوڑ کو واضح کرتا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ اس شراکت داری کو آنے والے وقتوں میں مزید وسعت دیں گے تاکہ عالمی دباؤ کا مقابلہ مل کر کیا جا سکے۔






