حکومت کا معاشی سرگرمیاں بڑھانے کیلئے درآمدی ڈیوٹیز میں تاریخی کمی کا فیصلہ
درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کے ذریعے حکومت پاکستان نے ملکی معیشت کو متحرک بنانے اور تجارتی شعبے میں مسابقت بڑھانے کے لیے اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار نمایاں کمی لانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کے تجارتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اوسط درآمدی ٹیرف کو موجودہ 20.19 فیصد سے کم کر کے 9.70 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سے مقامی صنعتوں کو عالمی منڈی میں بہتر مقابلے کا موقع ملے گا جبکہ خام مال، مشینری اور دیگر صنعتی سامان کی درآمد نسبتاً سستی ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں کمی اور مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پانچ سال کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 15 فیصد تک محدود کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی، جو اس وقت مختلف درآمدی اشیا پر عائد ہے، اسے مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
نئی پالیسی کے تحت ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 20 فیصد تک محدود رکھنے اور بعد ازاں اسے ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف درآمدی لاگت کم ہوگی بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیصلے سے ابتدائی طور پر قومی خزانے کو تقریباً 143 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ سے معیشت کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے بھی مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر یکساں ٹیرف نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس تجویز کا مقصد آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانا اور صارفین کو بہتر انتخاب فراہم کرنا ہے۔
کاروباری برادری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سے صنعتوں کو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کم لاگت پر دستیاب ہوگی، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ برآمدی شعبے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ خام مال کی لاگت کم ہونے سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گی۔
تجارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی موجودہ ٹیرف پالیسی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ رہی ہے، جس کی وجہ سے مقامی صنعتوں کو بعض اوقات مہنگے خام مال اور مشینری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئی اصلاحات اس فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیرف اصلاحات کا مقصد صرف درآمدات بڑھانا نہیں بلکہ ایک ایسا متوازن تجارتی ماحول پیدا کرنا ہے جہاں مقامی صنعت، سرمایہ کار اور صارفین سب کو فائدہ حاصل ہو۔ اس پالیسی کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو زیادہ کھلا، مسابقتی اور عالمی معیارات کے مطابق بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 مؤثر انداز میں نافذ کی گئی تو یہ پاکستان کی صنعتی ترقی، تجارتی وسعت اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
READ MORE FAQS
- حکومت نے درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کیوں کی ہے؟
معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، کاروباری لاگت کم کرنے اور تجارتی مسابقت بڑھانے کے لیے۔
- نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
اوسط ٹیرف کو 20.19 فیصد سے کم کرکے 9.70 فیصد تک لانا اور تجارتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانا۔
- کسٹمز ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح کتنی ہوگی؟
حکومت کی تجویز کے مطابق آئندہ پانچ سال میں زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک محدود ہوگی۔
- کیا اس فیصلے سے صارفین کو فائدہ ہوگا؟
جی ہاں، درآمدی لاگت کم ہونے سے اشیا کی قیمتوں میں استحکام اور بعض مصنوعات سستی ہونے کا امکان ہے۔








