خامنہ ای کے جنازے پر حملے کی وارننگ، ایران نے سخت ردعمل کا اعلان
خامنہ ای کے جنازے پر حملے کی وارننگ دیتے ہوئے ایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ نے کہا ہے کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات یا نمازِ جنازہ کے دوران اسرائیل یا امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو ایران اس کا سخت اور فوری جواب دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا بریگیڈ نے اپنے بیان میں مخالفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے پہلے اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کیونکہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور مذہبی شخصیات کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات انتہائی حساس مرحلہ ہیں، اسی لیے ملک بھر میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ تہران میں ادا کی جائے گی جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنما اور متعدد بین الاقوامی وفود کی شرکت متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں عوام کی شرکت کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ اہم سرکاری اور مذہبی مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی برادری کی نظریں ایران میں ہونے والی ان تقریبات اور ان سے جڑی سیکیورٹی صورتحال پر مرکوز ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اگر کسی بھی بیرونی طاقت نے ان تقریبات کے دوران کارروائی کی کوشش کی تو اس کے نتائج صرف محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اس بیان پر اسرائیل یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا
READ MORE FAQS
- ایران نے کیا وارننگ جاری کی ہے؟
ایران نے کہا ہے کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات یا نمازِ جنازہ کے دوران کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی ہوئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
- یہ وارننگ کس نے جاری کی؟
یہ بیان ایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
- نمازِ جنازہ کہاں ادا کی جائے گی؟
ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ تہران میں ادا کی جائے گی۔
- آخری رسومات میں کون شریک ہوگا؟
ایرانی حکام کے مطابق مختلف ممالک کے سربراہان، حکومتی شخصیات، مذہبی رہنما اور بین الاقوامی وفود کی شرکت متوقع ہے








