وزیراعظم شہباز شریف تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد ترکیے روانہ

وزیراعظم شہباز شریف ترکیے روانہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف ترکیے روانہ

وزیراعظم شہباز شریف ترکیے روانہ ہوگئے ہیں۔ وہ تہران میں منعقدہ تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد اپنے سرکاری دورے کے اگلے مرحلے کے لیے ترکیے روانہ ہوئے۔

وزیراعظم نے پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحوم ایرانی رہنما کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ایران کے عوام اور قیادت سے اظہارِ تعزیت کیا۔

پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔

وفد کے ارکان نے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے دوران فاتحہ خوانی کی اور پاکستان کی جانب سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایرانی قیادت نے کئی دہائیوں تک اپنے ملک کی رہنمائی کی اور خطے کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایران کے عوام کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

تہران میں مصروفیات مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم اپنے سرکاری دورے کے اگلے مرحلے میں ترکیے روانہ ہوئے، جہاں ان کی ترک قیادت سے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر ملاقاتیں متوقع ہیں۔

پاکستان اور ترکیے کے درمیان قریبی سیاسی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات موجود ہیں، جبکہ دونوں ممالک مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مشاورت کے حوالے سے اہم تصور کیا جا رہا ہے

READ MORE FAQS
  1. وزیراعظم شہباز شریف ترکیے کیوں گئے؟

سرکاری دورے کے دوران ترک قیادت سے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی امور پر ملاقاتیں متوقع ہیں۔

  1. وزیراعظم کے ہمراہ کون کون وفد میں شامل تھا؟

وفد میں اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، محسن نقوی، عطا تارڑ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

  1. تہران میں وزیراعظم کی اہم مصروفیت کیا تھی؟

انہوں نے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

  1. ترکیے کے دورے میں کن امور پر بات چیت متوقع ہے؟

دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال متوقع ہے

متعلقہ خبریں