‫انسان نما روبوٹ: چینی کمپنی نے جذبات سمجھنے والے AI روبوٹس متعارف کرا دیے‬

انسان نما روبوٹ چینی کمپنی یو بی ٹیک کا جدید AI روبوٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین کے انسان نما روبوٹس نے دنیا کو حیران کردیا، انسانوں سے بات چیت اور رقص بھی کر دکھایا

مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا نقشہ بدل دیا ہے اور اب انسان نما روبوٹ اس انقلاب کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چین کی معروف روبوٹکس کمپنی یو بی ٹیک (UBTech) نے ایسے جدید انسان نما روبوٹس متعارف کرائے ہیں جو نہ صرف شکل و صورت میں انسانوں سے کافی مشابہت رکھتے ہیں بلکہ ان کے چہرے کے تاثرات، حرکات، گفتگو اور ردعمل بھی حیران کن حد تک قدرتی محسوس ہوتے ہیں۔

چین میں منعقد ہونے والے ایک خصوصی ٹیکنالوجی ایونٹ میں کمپنی نے اپنے نئے الٹرا بائیونک ہیومینائیڈ روبوٹس پیش کیے، جنہوں نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ ان روبوٹس کو مصنوعی ذہانت، جدید سینسرز اور انسانی طرز کی حرکات کے ساتھ تیار کیا گیا ہے تاکہ یہ مستقبل میں مختلف شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

کمپنی کے مطابق ان روبوٹس کی تیاری میں خصوصی سیلیکون جلد استعمال کی گئی ہے، جس کی بدولت ان کا چہرہ انتہائی قدرتی دکھائی دیتا ہے۔ ان کی آنکھیں سامنے موجود شخص کی حرکت کو فالو کرتی ہیں، پلکیں جھپکتی ہیں اور مختلف جذبات کی عکاسی بھی کر سکتی ہیں۔

ایونٹ کے دوران پیش کیے گئے روبوٹس نے اسٹیج پر چل کر اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ایک روبوٹ نے میزبان کے سوالات کے جوابات دیے جبکہ دوسرے نے ایک انسان کے ساتھ رقص کرکے حاضرین کو حیران کردیا۔ یہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت تھا کہ جدید AI اب صرف گفتگو تک محدود نہیں بلکہ جسمانی حرکات اور سماجی تعامل میں بھی نمایاں پیش رفت کر چکا ہے۔

کمپنی نے تین مختلف ماڈلز متعارف کرائے ہیں جن میں یو 1 لائٹ، یو 1 پرو اور یو 1 الٹرا شامل ہیں۔ ہر ماڈل مختلف ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ بنیادی ماڈل عام استعمال کے لیے ہے جبکہ جدید ماڈلز میں مزید طاقتور مصنوعی ذہانت، بہتر موشن کنٹرول اور زیادہ حساس سینسرز شامل کیے گئے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹس ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی آواز یا سوال کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جدید AI الگورتھمز انہیں چہرے کے تاثرات، آواز کے اتار چڑھاؤ اور جسمانی زبان کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جس کے بعد وہ صورتحال کے مطابق مناسب ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

انسان نما روبوٹس کو بنیادی طور پر حفاظتی اور معاون کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مستقبل میں انہیں ہسپتالوں، ہوٹلوں، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں، گھریلو معاونت، معمر افراد کی دیکھ بھال اور کسٹمر سروس جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس مستقبل میں انسانی زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگرچہ اس شعبے میں کئی ممالک کام کر رہے ہیں، تاہم چین نے گزشتہ چند برسوں میں روبوٹکس اور AI کے میدان میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے جس کے نتیجے میں ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان روبوٹس کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا قدرتی انداز میں گفتگو کرنا، جذبات کو سمجھنا اور انسانوں جیسا برتاؤ کرنا ہے۔ یہی خصوصیات انہیں روایتی صنعتی روبوٹس سے مختلف بناتی ہیں۔

اگر مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کرتی ہے تو انسان نما روبوٹس روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ پرائیویسی، اخلاقیات، ڈیٹا سکیورٹی اور روزگار جیسے اہم سوالات بھی سامنے آئیں گے جن پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

اس وقت یہ روبوٹس جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ایک بہترین مثال ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے صحت، تعلیم، صنعت، کاروبار اور گھریلو زندگی سمیت کئی شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. انسان نما روبوٹ کیا ہیں؟

انسان نما روبوٹس ایسے AI روبوٹس ہیں جو شکل، حرکات اور گفتگو میں انسانوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

  1. یہ روبوٹس کس کمپنی نے متعارف کرائے؟

چین کی معروف روبوٹکس کمپنی یو بی ٹیک (UBTech) نے یہ جدید روبوٹس پیش کیے ہیں۔

  1. ان روبوٹس کی خاص خصوصیات کیا ہیں؟

یہ روبوٹس جذبات کو سمجھ سکتے ہیں، انسانوں سے گفتگو کرتے ہیں، آنکھیں حرکت کرتی ہیں، پلکیں جھپکتے ہیں اور قدرتی انداز میں چلتے ہیں۔

  1. کتنے ماڈلز متعارف کرائے گئے؟

تین ماڈلز: یو 1 لائٹ، یو 1 پرو اور یو 1 الٹرا۔

متعلقہ خبریں