آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر میزائل حملے، ایک بھارتی ملاح جانبحق

آبنائے ہرمز حملہ میں متاثرہ تجارتی جہاز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آبنائے ہرمز حملہ: میزائل حملے میں بھارتی ملاح ہلاک، بھارت کا ایران سے احتجاج

آبنائے ہرمز حملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دو تجارتی بحری جہازوں پر میزائل حملوں کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا۔ اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفارتخانے نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں ایک بھارتی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سفارتخانے کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والے دونوں تجارتی جہاز البحیہ اور مومباسا بی تھے۔

بھارتی سفارتخانے کا بیان

بھارتی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے میں ایک بھارتی ملاح کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جاتا ہے۔ سفارتخانے نے متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ انہیں ہر ممکن سفارتی اور قونصلر معاونت فراہم کی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور زخمی افراد یا متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے جاری ہیں۔

ایران کے نائب سفیر کو طلب

رپورٹس کے مطابق بھارت نے عمانی سمندری حدود میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد نئی دہلی میں ایران کے نائب سفیر کو طلب کیا اور باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک بھارتی شہری کی جان جانے کے بعد معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحر عرب سے ملانے والی یہ تنگ مگر انتہائی اہم سمندری راہداری عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔

دنیا کی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار روزانہ اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

عالمی بحری صنعت میں تشویش

تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی بحری صنعت میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف شپنگ کمپنیاں اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں جبکہ کئی جہاز رانی کمپنیوں نے اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو شپنگ انشورنس کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف علاقائی تنازعات اور عسکری سرگرمیوں کے باعث خلیجی خطہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔

کئی ممالک پہلے ہی اپنے بحری جہازوں کو اضافی حفاظتی ہدایات جاری کر چکے ہیں جبکہ بعض ممالک نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک اس صورتحال کو گہری تشویش سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مقامی معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

فی الحال حملے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں اور نہ ہی ہلاک ہونے والے بھارتی ملاح کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر کی گئی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مختلف ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور بحری سلامتی کے شعبوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

READ MORE FAQS

آبنائے ہرمز کہاں واقع ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحر عرب کے درمیان واقع ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔

حملے میں کتنے جہاز متاثر ہوئے؟

رپورٹس کے مطابق دو تجارتی جہاز، البحیہ اور مومباسا بی، حملے کا نشانہ بنے۔

کیا کسی جانی نقصان کی تصدیق ہوئی؟

جی ہاں، بھارتی سفارتخانے نے ایک بھارتی ملاح کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

بھارت نے کیا ردعمل دیا؟

بھارت نے ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

متعلقہ خبریں