کراچی رینجرز کیمپ حملہ: ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت سہولتکار نیٹ ورک گرفتار
کراچی رینجرز کیمپ حملہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 جون کو گلستانِ جوہر میں واقع رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت پورے سہولتکار نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے تحقیقات سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملے کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک کی گئی تھی جبکہ حملے میں ملوث افراد کو تربیت، اسلحہ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک منظم نیٹ ورک سرگرم تھا۔
حملے کی تفصیلات
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حملے کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے رینجرز کیمپ کے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے بعد دیگر حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں شامل افراد کے پس منظر، نقل و حرکت اور رابطوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی اہم گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
مبینہ سہولتکاروں کی گرفتاری
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ حملہ آوروں کو اسلحہ اور دیگر سامان فراہم کرنے والے مبینہ اسمگلرز کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران متعدد افراد کے کردار کا تعین کیا گیا جنہیں مختلف کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے کہا کہ تفتیش کے دوران ایسے شواہد بھی حاصل ہوئے جن کی بنیاد پر حملے کے مختلف پہلوؤں کا سراغ ملا اور مبینہ نیٹ ورک کے کئی روابط سامنے آئے۔
ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کا دعویٰ
حکام کے مطابق حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد بشیر عرف قاری بشیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ روابط اور سرگرمیوں کا بھی پتا چلایا جا سکے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی حکام نے کہا کہ کیس کی تحقیقات بدستور جاری ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

پریس کانفرنس کے دوران حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کی گرفتاری قومی سلامتی کے لیے اہم ہے اور اس حوالے سے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
READ MORE FAQS
کراچی رینجرز کیمپ حملہ کب ہوا تھا؟
حکام کے مطابق حملہ 27 جون کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع رینجرز کیمپ پر ہوا تھا۔
حکام نے کس کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے؟
سی ٹی ڈی کے مطابق حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت متعدد مبینہ سہولتکار گرفتار کیے گئے ہیں۔
تحقیقات کس ادارے نے کیں؟
تحقیقات سندھ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔
کیا مزید گرفتاریاں متوقع ہیں؟
حکام کے مطابق تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد کی روشنی میں کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔








