آزاد کشمیر میں لانگ مارچ سے قبل جھڑپیں، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک، حالات کشیدہ

آزاد کشمیر میں لانگ مارچ سے قبل سیکیورٹی اہلکار تعینات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آزاد کشمیر میں لانگ مارچ سے قبل جھڑپیں، جھڑپوں میں آٹھ شہری، ایک رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے، حالات کشیدہ

مظفرآباد/راولاکوٹ: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بدھ کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ منگل کو راولاکوٹ اور سدنوتی میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سرکاری حکام کے مطابق دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔

حکام کے مطابق کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا آزاد کشمیر میں لانگ مارچ بدھ کو دوپہر دو بجے راولاکوٹ سے مظفرآباد کے لیے روانہ ہونا ہے۔ اس تناظر میں رینجرز، پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تقریباً 4 ہزار اہلکار پہلے ہی مختلف علاقوں میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے تصدیق کی کہ راولاکوٹ اور سدنوتی میں دو الگ الگ واقعات کے دوران پیش آنے والی جھڑپوں میں آٹھ شہری، ایک رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سدنوتی میں بلوچ بیٹھک کے قریب مظاہرین نے رینجرز کے قافلے کا راستہ روک کر پتھراؤ کیا، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دوسری جانب راولاکوٹ میں بھی کلیئرنس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک رینجرز اہلکار اور ایک مظاہر جان کی بازی ہار گئے۔

آزاد کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن
آزاد کشمیر حکومت نے راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں سیکیورٹی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم کے مسلح کارکنوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ اور دھماکا خیز مواد کا استعمال کیا، جبکہ پولیس کے مطابق متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ آئی جی کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے بتایا کہ ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک، ایک اہلکار کی حالت تشویشناک اور دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں رینجرز اہلکار کی ہلاکت اور مسلح کارروائیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن احتجاج کر رہی ہے اور اس کے کارکنوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لانگ مارچ کیوں کیا جا رہا ہے؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے 38 نکاتی مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں حکمران طبقے کی مراعات میں کمی، مہاجرینِ کشمیر کی مخصوص اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لینے، رینجرز کی تعیناتی ختم کرنے، مفت تعلیم و علاج، روزگار کے مواقع، سرکاری اصلاحات، قدرتی وسائل پر مقامی اختیار، کم از کم اجرت میں اضافہ اور کرپشن کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق بدھ کو راولاکوٹ سے مظفرآباد روانہ ہوگا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں لانگ مارچ کو دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

نوٹ: اس خبر میں شامل متعدد دعوے سرکاری حکام اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے الگ الگ مؤقف پر مبنی ہیں۔ ان میں سے بعض دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: آزاد کشمیر میں جھڑپیں کہاں ہوئیں؟

جواب: سرکاری حکام کے مطابق جھڑپیں راولاکوٹ اور سدنوتی کے علاقوں میں پیش آئیں۔

سوال 2: کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

جواب: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک رینجرز اہلکار، ایک پولیس اہلکار اور آٹھ شہری شامل ہیں۔

سوال 3: آزاد کشمیر میں لانگ مارچ کیوں کیا جا رہا ہے؟

جواب: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے 38 نکاتی مطالبات، جن میں انتظامی اصلاحات، عوامی سہولیات اور دیگر امور شامل ہیں، کے حق میں لانگ مارچ کر رہی ہے۔

سوال 4: کیا تمام دعوؤں کی تصدیق ہو چکی ہے؟

جواب: نہیں۔ خبر میں شامل بعض دعوے سرکاری حکام اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے الگ الگ مؤقف پر مبنی ہیں، اور ان کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

متعلقہ خبریں