کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن ناگزیر، مسلح جتھے جدید ہتھیار استعمال کر رہے ہیں: سیکریٹری داخلہ آزاد کشمیر

آزاد کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن ناگزیر، مسلح جتھے جدید ہتھیار استعمال کر رہے ہیں: سیکریٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری داخلہ نے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ تنظیم سے منسلک مسلح جتھے جدید خودکار ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے عوام کی جان و مال اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ 38 روز سے آزاد کشمیر میں امن و امان اور معمولات زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کے نام پر دھونس، بلیک میلنگ اور انتشار کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تنظیم پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دے رہی ہے، افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہی ہے اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کو دھمکیاں دے کر زبردستی بازار بند کروائے جا رہے ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے مزید کہا کہ طلبہ، خواتین اور بچوں کو مبینہ طور پر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرکے احتجاجی سرگرمیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

راولاکوٹ حملہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی
راولاکوٹ میں حملے کے بعد سکیورٹی فورسز علاقے کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے

انہوں نے بتایا کہ ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

ان کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ خواجہ مہران نے آزاد کشمیر کے داخلی راستے بند کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی دھمکیاں پہلے بھی ناکام رہی ہیں اور عوام کی اکثریت اس تنظیم سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ تنظیم کے احتجاجوں کے باعث آزاد کشمیر کو اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راولاکوٹ کے متیال میرہ بس ٹرمینل پر مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کی اور پولیس کے پہنچنے پر فورسز پر خودکار ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مسلح عناصر کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز کو بھی راولاکوٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔ جھڑپوں کے دوران ایک اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوا، جبکہ حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک مبینہ مسلح شخص بھی ہلاک ہوا۔

سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ سمیت اہم سڑکوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور تمام راستے مکمل طور پر کھولنے تک کارروائی جاری رہے گی تاکہ عوام کی نقل و حمل اور ضروری اشیاء کی فراہمی بحال رکھی جا سکے۔

اس موقع پر سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ طلبہ و طالبات کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یونیفارم میں ملبوس طلبہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے والدین اور تعلیمی اداروں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکام نے خبردار کیا کہ اگر کوئی تعلیمی ادارہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتا یا طلبہ کو احتجاج میں شریک ہونے دیتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوٹ: اس خبر میں شامل الزامات اور دعوے آزاد جموں و کشمیر حکومت کے حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: آزاد کشمیر میں آپریشن کیوں شروع کیا گیا؟

جواب: حکومتی مؤقف کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک مسلح عناصر کی سرگرمیوں، فائرنگ اور دھماکا خیز مواد کے مبینہ استعمال کے بعد آپریشن شروع کیا گیا۔

سوال 2: آپریشن کہاں جاری ہے؟

جواب: حکام کے مطابق راولاکوٹ، کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

سوال 3: حکومتی پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا؟

جواب: سیکریٹری داخلہ نے دعویٰ کیا کہ تنظیم مسلح کارروائیوں میں ملوث ہے جبکہ سیکریٹری تعلیم نے طلبہ کو احتجاج سے دور رکھنے کی ہدایت جاری کرنے کا اعلان کیا۔

سوال 4: کیا ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہوئی ہے؟

جواب: نہیں، خبر میں شامل الزامات حکومتی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں اور ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

متعلقہ خبریں