امریکا کا ایران میں درجنوں فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی مزید بڑھ گئی

امریکی فوج کے ایران میں مبینہ فوجی حملوں اور آبنائے ہرمز کے قریب فوجی سرگرمیاں بڑھا دی گئی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا کا ایران میں درجنوں فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی مزید بڑھ گئی،بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی گئی

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کارروائی 14 جولائی کی رات شروع کی گئی اور تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں کی مدد سے جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملوں کا مرکز آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے، جہاں میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے، امریکی مؤقف کے مطابق، آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں اور بین الاقوامی عملے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس
تہران میں جنگ کے بعد منعقد ہونے والے ایرانی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا منظر۔

امریکی فوج نے مزید بتایا کہ اسی روز مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ اس کی تمام افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور صدرِ امریکا کی ہدایات پر مزید کارروائی کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

دوسری جانب اس خبر کے اجراء تک ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دفاعی اور معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج میں فوجی کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔

بین الاقوامی برادری مسلسل امریکا اور ایران پر زور دے رہی ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل کی کوشش کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

 

متعلقہ خبریں