اسلام آباد شیشہ کیفے کیس، ڈی سی اور آئی جی عدالت طلب

اسلام آباد شیشہ کیفے کیس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفوں سے متعلق کیس، ڈی سی اور آئی جی پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب

اسلام آباد شیشہ کیفے کیس ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں کی بڑھتی تعداد اور ان سے جڑے مبینہ سماجی و صحت کے مسائل پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل پولیس کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کی۔ کیس شہری عبدالجبار کی جانب سے دائر درخواست پر سنا گیا، جبکہ درخواست گزار کی نمائندگی محمد سہیل خورشید ایڈووکیٹ نے کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد میں شیشہ کیفوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور ان میں سے کئی ادارے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کے بغیر کام کر رہے ہیں۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ شیشہ کیفوں کی تفصیلات طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں شیشہ کیفوں کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں رات گئے تک تقریبات اور سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ ان کے مطابق بعض کیفے متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل کر کے کام کر رہے ہیں جبکہ متعدد ایسے بھی ہیں جو مطلوبہ اجازت ناموں کے بغیر کاروبار چلا رہے ہیں۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شام سے شروع ہونے والی سرگرمیاں بعض مقامات پر صبح تک جاری رہتی ہیں، جس سے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں بلکہ سماجی اور صحت کے حوالے سے بھی مختلف خدشات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عوامی سطح پر ان سرگرمیوں کے اثرات کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے اور متعلقہ حکام کو اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

سماعت کے دوران وکیل نے وزیر صحت کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نائٹ پارٹیوں اور غیر منظم سرگرمیوں کے باعث بعض بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم عدالت میں اصل توجہ شیشہ کیفوں کے قانونی اسٹیٹس، این او سی، انتظامی نگرانی اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے معاملات پر مرکوز رہی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد میں قائم تمام شیشہ کیفوں کی مکمل فہرست طلب کی جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کون سے کیفے قانونی اجازت ناموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور کن اداروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ درخواست میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ متعلقہ سرکاری ادارے عدالت کے سامنے ایک واضح طریقہ کار پیش کریں جس کے تحت شیشہ کیفوں کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے اعلیٰ انتظامی اور پولیس حکام کو طلب کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا چاہتی ہے۔ آئندہ سماعت میں امکان ہے کہ اسلام آباد میں موجود شیشہ کیفوں کی تعداد، ان کے لائسنس، این او سی، آپریٹنگ اوقات اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں گی۔

شیشہ کیفوں کے حوالے سے پاکستان کے مختلف شہروں میں وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہی ہے۔ بعض حلقے انہیں تفریحی کاروبار کا حصہ قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر حلقے صحت اور سماجی اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف مقامات پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے قواعد و ضوابط مرتب کیے جاتے ہیں تاکہ عوامی مفاد اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

اسلام آباد میں بھی اس شعبے سے متعلق قوانین اور اجازت ناموں کا نظام موجود ہے، تاہم درخواست گزار کے مطابق ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ عدالت کی آئندہ کارروائی سے یہ واضح ہو سکے گا کہ متعلقہ ادارے نگرانی اور ضابطہ کار کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس صرف شیشہ کیفوں تک محدود نہیں بلکہ شہری انتظامیہ، عوامی صحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضابطہ کار کے نفاذ سے متعلق وسیع تر سوالات کو بھی سامنے لا رہا ہے۔ اسی لیے اس مقدمے کے نتائج مستقبل میں پالیسی سازی اور نگرانی کے نظام پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

فی الحال عدالت نے تمام متعلقہ حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔ اب نظریں اگلی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں سرکاری ادارے اپنے مؤقف اور تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔

READ MORE FAQS
  1. اسلام آباد شیشہ کیفے کیس کیا ہے؟

یہ کیس وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں کی بڑھتی تعداد اور ان کے قانونی و انتظامی معاملات سے متعلق دائر کیا گیا ہے۔

  1. عدالت نے کن حکام کو طلب کیا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔

  1. درخواست کس نے دائر کی؟

یہ درخواست شہری عبدالجبار کی جانب سے دائر کی گئی۔

  1. درخواست گزار کے وکیل کون ہیں؟

درخواست گزار کی نمائندگی محمد سہیل خورشید ایڈووکیٹ نے کی۔

متعلقہ خبریں