سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز غیر معیاری قرار، صحت عامہ کیلئے خطرے کی گھنٹی

غیر معیاری ادویات اور سرنجز کی جانچ کرتی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کی رپورٹ، 79 ادویات اور سرنجز ناقص و جعلی قرار

غیر معیاری ادویات اور سرنجز کے حوالے سے سندھ سے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری سے 13 جولائی تک مختلف اضلاع سے حاصل کیے گئے ادویات اور طبی سامان کے نمونوں میں سے 79 نمونے مقررہ معیار پر پورا نہیں اتر سکے اور انہیں غیر معیاری، جعلی یا غیر رجسٹرڈ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 2461 نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں ایلوپیتھک ادویات، ہربل مصنوعات اور آٹو ڈس ایبل سرنجز شامل تھیں۔ لیبارٹری نتائج نے صحت عامہ کے حوالے سے کئی اہم خدشات کو اجاگر کیا ہے۔

30 آٹو ڈس ایبل سرنجز ناقص قرار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30 آٹو ڈس ایبل سرنجز معیار کے مطابق نہیں پائی گئیں۔ آٹو ڈس ایبل سرنجز کو اس مقصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے کہ انہیں صرف ایک مرتبہ استعمال کیا جا سکے تاکہ مریضوں کے درمیان بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ کم ہو۔

تاہم جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ بعض سرنجز مکمل طور پر آٹو ڈس ایبل نہیں تھیں، جس کے باعث ان کے دوبارہ استعمال کا امکان موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی سرنجز کے استعمال سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہربل مصنوعات میں ایلوپیتھک اجزا کی موجودگی

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 20 ہربل مصنوعات میں ایلوپیتھک اجزا شامل پائے گئے۔ ماہرین کے مطابق ہربل یا قدرتی مصنوعات میں بغیر واضح لیبلنگ کے ایلوپیتھک اجزا شامل کرنا صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بعض اوقات مریض ہربل علاج کو محفوظ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر ان میں خفیہ طور پر دوائیوں کے کیمیائی اجزا شامل ہوں تو اس سے غیر متوقع مضر اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

9 ادویات غیر رجسٹرڈ نکلیں

رپورٹ کے مطابق 9 ادویات ایسی پائی گئیں جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھیں۔ غیر رجسٹرڈ ادویات کے بارے میں صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان کی تیاری، معیار اور مؤثریت کی مناسب نگرانی نہیں ہوتی، جس سے مریضوں کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری ادویات اور ناقص طبی سامان نہ صرف علاج کے نتائج کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مریضوں کی جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر سرنجز کے معیار میں خرابی صحت کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ تصور کی جاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اسپتالوں، کلینکس اور فارمیسیوں کو صرف منظور شدہ اور مستند مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں تاکہ مریضوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ادویات اور طبی آلات کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ جعلی اور غیر معیاری مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی اور باقاعدہ معائنہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام ادویات خریدتے وقت مستند فارمیسیوں سے رجوع کریں اور مشکوک مصنوعات کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • صرف رجسٹرڈ فارمیسیوں سے ادویات خریدیں۔
  • پیکنگ، رجسٹریشن نمبر اور میعادِ استعمال ضرور چیک کریں۔
  • ہربل مصنوعات استعمال کرنے سے پہلے مستند معلومات حاصل کریں۔
  • سرنجز اور طبی آلات کے استعمال میں احتیاط برتیں۔
  • کسی بھی مشکوک دوا یا طبی سامان کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

سندھ کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی یہ رپورٹ صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم انتباہ سمجھی جا رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ادویات اور طبی سامان کے معیار پر مسلسل نگرانی اور سخت ریگولیٹری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

READ MORE FAQS

سندھ میں کتنے نمونے غیر معیاری قرار دیے گئے؟

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کے مطابق 2461 نمونوں میں سے 79 نمونے غیر معیاری، جعلی یا غیر رجسٹرڈ پائے گئے۔

کتنی سرنجز ناقص قرار دی گئیں؟

رپورٹ کے مطابق 30 آٹو ڈس ایبل سرنجز معیار کے مطابق نہیں تھیں۔

آٹو ڈس ایبل سرنجز کیا ہوتی ہیں؟

یہ ایسی سرنجز ہوتی ہیں جو صرف ایک مرتبہ استعمال کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کی جا سکتیں۔

کتنی ہربل مصنوعات میں ایلوپیتھک اجزا پائے گئے؟

20 ہربل مصنوعات میں ایلوپیتھک اجزا کی موجودگی سامنے آئی۔

متعلقہ خبریں