چین نے تنہائی کا شکار افراد کے لیے جدید اے آئی انسان نما روبوٹس متعارف کرا دیے
چین کے اے آئی روبوٹس مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نئی اور اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ چین کی معروف روبوٹکس کمپنی یو-بی ٹیک (UBTech) نے ایسے جدید انسان نما روبوٹس متعارف کرائے ہیں جو نہ صرف روزمرہ زندگی کے مختلف کاموں میں مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ تنہائی کا شکار افراد کے لیے ایک ڈیجیٹل ساتھی کا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تنہائی، عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافے اور گھریلو معاونت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے یہ روبوٹس جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI)، لارج لینگویج ماڈلز (LLMs)، آواز کی پہچان (Voice Recognition) اور چہرے کی شناخت (Face Recognition) جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ہیں۔
یو-بی ٹیک کے مطابق ان روبوٹس کی سب سے نمایاں خصوصیت انسانوں کی طرح قدرتی انداز میں گفتگو کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ روبوٹس صارف کی بات سن سکتے ہیں، سوالات کے جواب دے سکتے ہیں اور مختلف موضوعات پر مسلسل مکالمہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ گفتگو کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کو محفوظ رکھتے ہیں، جس کی بدولت وقت گزرنے کے ساتھ یہ صارف کی پسند، عادات اور ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں بزرگ افراد اکیلے زندگی گزار رہے ہیں، جہاں سماجی رابطوں کی کمی ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ ایسے حالات میں یہ اے آئی روبوٹس نہ صرف ایک ساتھی کے طور پر کام کر سکتے ہیں بلکہ معلومات فراہم کرنے، روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف رکھنے اور جذباتی معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
کمپنی نے ان روبوٹس کو خاص طور پر بزرگ افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ ادویات لینے کی یاد دہانی کرا سکتے ہیں، روزمرہ معمولات کو منظم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، ہنگامی صورتحال میں الرٹ جاری کر سکتے ہیں، معلوماتی سوالات کے جواب فراہم کر سکتے ہیں اور خاندان کے افراد سے رابطہ قائم رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی معاونت کی ضرورت میں اضافہ ہوتا ہے، ایسے میں یہ روبوٹس مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یو-بی ٹیک کے مطابق یہ انسان نما روبوٹس گھریلو معاون کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔ ان کی ممکنہ صلاحیتوں میں گھریلو معلومات فراہم کرنا، شیڈول ترتیب دینا، الارم اور یاد دہانیاں دینا، تفریحی سرگرمیوں میں مدد کرنا، تعلیمی معاونت فراہم کرنا اور بنیادی گھریلو کاموں میں رہنمائی شامل ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان روبوٹس کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ زیادہ پیچیدہ گھریلو ذمہ داریاں بھی انجام دے سکیں۔
ان روبوٹس میں جدید چہرہ شناس اور آواز کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی شامل کی گئی ہے، جس کے ذریعے یہ مختلف افراد کو پہچان سکتے ہیں، مخصوص صارفین کی ترجیحات یاد رکھ سکتے ہیں، ذاتی نوعیت کی گفتگو کر سکتے ہیں اور گھر کے مختلف افراد کی ضروریات کے مطابق مختلف خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ روبوٹس تعلیم اور تفریح کے شعبوں میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سوالات کے جواب دینے، سیکھنے میں مدد کرنے، زبانوں کی مشق کرانے اور تعلیمی مواد سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ تفریح کے لیے کہانیاں سنانے، کھیلوں میں حصہ لینے اور معلوماتی گفتگو فراہم کرنے جیسے فرائض بھی انجام دے سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ آئندہ نسل کے روبوٹس موجودہ ماڈلز سے کہیں زیادہ ذہین ہوں گے۔ مستقبل میں یہ روبوٹس صارف کی عادات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے، پیچیدہ گھریلو کام انجام دے سکیں گے، صحت کی نگرانی میں مدد فراہم کریں گے، جذباتی رویوں کا تجزیہ کر سکیں گے اور مزید قدرتی انداز میں گفتگو کرنے کے قابل ہوں گے۔ چین پہلے ہی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور حکومت کے ساتھ نجی کمپنیاں بھی جدید ٹیکنالوجی کو عام زندگی کا حصہ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یو-بی ٹیک کے یہ نئے روبوٹس چین کی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں عالمی روبوٹکس مارکیٹ میں چین کی پوزیشن مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اے آئی روبوٹس مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے امتزاج کی ایک اہم مثال ہیں جو تنہائی کا شکار افراد، بزرگ شہریوں، طلبہ اور عام صارفین کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل ساتھی ثابت ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں انسانوں اور روبوٹس کے تعلقات کی نوعیت کو مزید تبدیل کر سکتے ہیں۔
READ MORE FAQS
چین کے اے آئی روبوٹس کس کمپنی نے تیار کیے ہیں؟
چینی روبوٹکس کمپنی یو-بی ٹیک (UBTech) نے یہ روبوٹس تیار کیے ہیں۔
ان روبوٹس کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
تنہائی دور کرنا، بزرگ افراد کی مدد کرنا اور گھریلو معاونت فراہم کرنا۔
کیا یہ روبوٹس بات چیت کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، یہ قدرتی انداز میں گفتگو کرنے اور سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیا روبوٹس صارف کی معلومات یاد رکھتے ہیں؟
جی ہاں، جدید AI کی مدد سے یہ گفتگو اور ترجیحات یاد رکھ سکتے ہیں۔








