10 فیصد کوٹہ: مستحق طلبہ کو داخلہ نہ دینے پر نجی سکولز کیخلاف کارروائی کا اعلان
10 فیصد کوٹہ کے تحت مستحق طلبہ کو نجی سکولز میں داخلے نہ دینے کے معاملے نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر نجی تعلیمی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کا حصہ بنیں گی اور مستحق بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
بشریٰ انجم بٹ کے مطابق نجی سکولز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ قانون کے مطابق مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو 10 فیصد کوٹے کے تحت داخلہ فراہم کریں، تاہم متعدد سکولز نے اس پر عملدرآمد کے بجائے عدالت سے حکمِ امتناع حاصل کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ مستحق بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نجی تعلیمی ادارے پاکستان میں کاروبار کر رہے ہیں اور منافع حاصل کر رہے ہیں تو انہیں معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
چیئرپرسن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی ہدایات کے باوجود بعض نجی سکولز نے مستحق طلبہ کو داخلہ دینے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو تعلیم تک رسائی فراہم کی جائے اور اس مقصد کے لیے موجود قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ یہ صرف داخلوں کا معاملہ نہیں بلکہ بچوں کے بنیادی حقِ تعلیم کا مسئلہ ہے۔ اگر کسی بچے کو صرف مالی مشکلات کی وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے تو یہ معاشرتی ناانصافی کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق عدالتوں میں بھی مؤثر انداز میں مؤقف پیش کیا جائے گا تاکہ مستحق طلبہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق 10 فیصد کوٹہ کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے ایسے بچوں کو معیاری نجی تعلیمی اداروں تک رسائی مل سکتی ہے جو مالی وسائل کی کمی کے باعث بہتر تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی پر مؤثر عملدرآمد ہو تو یہ تعلیمی مساوات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بھی ضروری ہے تاکہ تعلیمی نظام زیادہ جامع اور مؤثر بنایا جا سکے۔
بشریٰ انجم بٹ کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی سماجی ذمہ داریاں کیا ہیں اور مستحق طلبہ کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر عدالتی اور قانونی پیش رفت اہمیت اختیار کر سکتی ہے
READ MORE FAQS
10 فیصد کوٹہ کیا ہے؟
10 فیصد کوٹہ ایک پالیسی ہے جس کے تحت نجی سکولز میں مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جاتی ہیں۔
بشریٰ انجم بٹ نے کیا اعلان کیا؟
انہوں نے نجی سکولز کی جانب سے مستحق طلبہ کو داخلہ نہ دینے کے خلاف قانونی کارروائی کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔
نجی سکولز نے کیا مؤقف اختیار کیا؟
بشریٰ انجم بٹ کے مطابق بعض نجی سکولز نے اس معاملے پر عدالت سے حکمِ امتناع حاصل کیا ہے۔
اس معاملے کی اہمیت کیا ہے؟
یہ بچوں کے بنیادی حقِ تعلیم اور تعلیمی مساوات سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہے۔








