وائٹ ہاؤس ملاقات: ڈونلڈ ٹرمپ کی عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار
ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو اچھا لیڈر قرار دے دیا اور ان کی قیادت کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی نئی قیادت مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم ملاقات کے دوران امریکی صدر نے عراق کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور تیل کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
واشنگٹن میں ہونے والی اس ملاقات کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی وزیراعظم علی الزیدی ایک مضبوط اور باصلاحیت رہنما ہیں جنہوں نے مختصر مدت میں ملک کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق عراق میں استحکام اور ترقی کے لیے موجودہ قیادت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ علی الزیدی طویل عرصے تک عراق کی سیاسی قیادت میں نمایاں مقام رکھتے رہیں گے اور ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کریں گے۔ امریکی صدر نے عراق کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کمپنیاں خاص طور پر توانائی اور تیل کے شعبے میں عراق میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراق توانائی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے اور امریکی کمپنیاں وہاں جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری لا کر دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند منصوبے شروع کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق عراق کی اقتصادی ترقی نہ صرف عراقی عوام بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔
امریکی صدر نے سیکیورٹی کے حوالے سے بھی عراق کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عراق کو کسی بھی قسم کے تحفظ یا تعاون کی ضرورت ہوئی تو امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے بھی ملاقات کے دوران عراق کے مستقبل کے حوالے سے اپنے وژن کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں صرف ریاستی اداروں کی بالادستی قائم ہوگی اور کسی بھی تنظیم، جماعت یا گروہ کو مسلح سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
علی الزیدی نے زور دے کر کہا کہ عراقی سرزمین پر صرف سرکاری مسلح افواج کو ہتھیار رکھنے اور سیکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کا اختیار ہوگا۔ ان کے مطابق ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
عراقی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت ماضی کے تنازعات اور اختلافات میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کو ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کی طرف لے جانا حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات امریکا اور عراق کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں امریکی دلچسپی عراق کے لیے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اس وقت داخلی استحکام، اقتصادی اصلاحات اور سیکیورٹی چیلنجز جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر حمایت اور سرمایہ کاری عراق کی ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے عراقی وزیراعظم کی تعریف کو نہ صرف سفارتی اہمیت حاصل ہے بلکہ یہ عراق کی موجودہ قیادت پر بین الاقوامی اعتماد کا اظہار بھی سمجھا جا رہا ہے۔
عراق اور امریکا کے درمیان مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھنے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو خصوصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
READ MORE FAQS
- ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے بارے میں کیا کہا؟
ٹرمپ نے علی الزیدی کو ایک اچھا اور مؤثر لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختصر عرصے میں بہترین کام کیا ہے۔
- ملاقات کہاں ہوئی؟
یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی جہاں دونوں رہنماؤں نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
- امریکا عراق میں کس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے؟
امریکی صدر کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں جلد عراق میں کام شروع کر سکتی ہیں اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔
- علی الزیدی نے مسلح گروہوں کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا؟
انہوں نے کہا کہ عراق میں صرف ریاستی مسلح افواج کو ہتھیار رکھنے کی اجازت ہوگی اور کسی غیر ریاستی گروہ کو مسلح ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔








