آبنائے ہرمز کا متبادل تیار، متحدہ عرب امارات نے فجیرہ میں نئی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ شروع کر دیا

متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں نئی بندرگاہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آبنائے ہرمز کا متبادل تیار، متحدہ عرب امارات نے فجیرہ میں نئی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ شروع کر دیا، نئی بندرگاہ کا بنیادی مقصد بحری تجارت آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے متاثر ہوئے بغیر جاری رکھی جا سکے

ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور خلیجی تجارت کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ منصوبے کے تحت ریاست فجیرہ میں نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ تعمیر کی جائے گی، جبکہ موجودہ پورٹ آف فجیرہ میں جدید کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کی معروف بندرگاہی کمپنی ڈی پی ورلڈ (DP World) اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ مختلف تکنیکی اور انتظامی امور پر مشاورت جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق فجیرہ میں نئی بندرگاہ کا بنیادی مقصد دبئی کی جبل علی پورٹ پر انحصار کم کرنا اور ایسا متبادل تجارتی راستہ فراہم کرنا ہے، جہاں سے بحری تجارت آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے متاثر ہوئے بغیر جاری رکھی جا سکے۔

امریکی فوج کے ایران میں مبینہ فوجی حملوں اور آبنائے ہرمز کے قریب فوجی سرگرمیاں بڑھا دی گئی
امریکی فوج نے ایران میں فوجی اہداف پر کارروائی کا دعویٰ کیا جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

حالیہ مہینوں میں خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں سے متعلق خدشات نے متحدہ عرب امارات کو اپنی بندرگاہی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

منصوبے کے تحت نہ صرف فجیرہ میں نئی بندرگاہ تعمیر کی جائے گی بلکہ موجودہ پورٹ آف فجیرہ کی استعداد بھی بڑھائی جائے گی تاکہ کنٹینرز، تجارتی سامان اور دیگر درآمدی و برآمدی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنے خام تیل کی ایک بڑی مقدار فجیرہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچاتا ہے اور مستقبل میں اس راستے سے تیل کی برآمدات میں مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم ہو سکے گا۔

ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اگر منصوبہ طے شدہ رفتار سے آگے بڑھتا رہا توفجیرہ میں نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔

اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد جبل علی پورٹ کا متبادل بنانا نہیں بلکہ ملک کی تجارتی سلامتی کو مزید مضبوط کرنا اور ہنگامی حالات میں ایک اضافی بحری راستہ فراہم کرنا ہے۔

معاشی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فجیرہ میں نئی بندرگاہ کا منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو گیا تو متحدہ عرب امارات نہ صرف اپنی بندرگاہی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا بلکہ خلیجی خطے میں لاجسٹکس، عالمی تجارت اور سپلائی چین کے شعبے میں بھی اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لے گا۔ یہ منصوبہ مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کی بحری تجارت کے نقشے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: متحدہ عرب امارات نئی بندرگاہ کہاں تعمیر کرے گا؟

جواب: منصوبے کے مطابق نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ امارات کی مشرقی ساحلی ریاست فجیرہ میں قائم کی جائے گی۔

سوال 2: اس منصوبے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

جواب: اس منصوبے کا مقصد جبل علی پورٹ پر انحصار کم کرنا، آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستے کی تیاری اور بحری تجارت کو مزید محفوظ بنانا ہے۔

سوال 3: منصوبے پر کون سی کمپنی کام کر رہی ہے؟

جواب: دبئی کی عالمی بندرگاہی کمپنی DP World اس منصوبے پر متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

سوال 4: نئی بندرگاہ کب تک مکمل ہونے کا امکان ہے؟

جواب: اگر منصوبہ طے شدہ رفتار سے جاری رہا تو نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں