پیٹرول کی ممکنہ قلت، ملک میں صرف 15 دن کا ذخیرہ باقی

پیٹرول کی ممکنہ قلت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تیل کمپنیوں کا حکومت کو انتباہ، ملک میں صرف 15 دن کی ضرورت کا پیٹرول باقی

پیٹرول کی ممکنہ قلت کے حوالے سے ملک میں تشویش بڑھ گئی ہے کیونکہ تیل کمپنیوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے حکومت کو ارسال کیے گئے ایک ہنگامی خط میں نشاندہی کی ہے کہ ملک میں اس وقت صرف 15 دن کی ضرورت کے برابر پیٹرول دستیاب ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق او سی اے سی نے 15 جولائی کو وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کو ایک "انتہائی فوری” خط ارسال کیا، جس میں پیٹرول کی دستیابی اور سپلائی چین کو درپیش مسائل کی تفصیل بیان کی گئی۔ خط میں کہا گیا کہ ملک میں موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کے ذخائر غیر معمولی حد تک کم ہو چکے ہیں اور موجودہ صورتحال فوری حکومتی توجہ کی متقاضی ہے۔

تیل کمپنیوں کے مطابق اس وقت تقریباً 370 ہزار میٹرک ٹن موٹر اسپرٹ کا ذخیرہ موجود ہے، جو ملک کی اوسط کھپت کے مطابق صرف 15 دن کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر درآمدی سپلائی میں معمولی رکاوٹ بھی پیدا ہو جائے تو مارکیٹ میں قلت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

او سی اے سی نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ درآمدی پیٹرول کارگو کی کلیئرنس میں تاخیر صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ صنعت کے مطابق ویبوک (WeBOC) نظام میں تاخیر کی وجہ سے درآمد شدہ ایندھن بروقت کلیئر نہیں ہو پا رہا، جس کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تیل کمپنیوں نے خبردار کیا کہ اگر تین اہم درآمدی پیٹرول کارگو وقت پر ملک نہ پہنچ سکے یا ان کی کلیئرنس میں مزید تاخیر ہوئی تو مقامی مارکیٹ میں سپلائی کے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں پیٹرول کی دستیابی متاثر ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

خط میں مالی مسائل کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق تقریباً 66.7 ارب روپے کی عدم ادائیگیوں کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کی وجہ سے نئی درآمدات اور سپلائی آپریشنز پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین توانائی کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ موسم گرما، سفری سرگرمیوں اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث ایندھن کی کھپت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر سپلائی چین متاثر ہو تو ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی مسلسل دستیابی کے لیے مناسب ذخائر برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق کئی ممالک ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کئی ہفتوں یا مہینوں کے ذخائر محفوظ رکھتے ہیں تاکہ سپلائی میں تعطل آنے کی صورت میں عوام اور صنعت کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

او سی اے سی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی کارگو کی فوری کلیئرنس، مالی ادائیگیوں کے مسائل کے حل اور سپلائی چین کی روانی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ بروقت مداخلت سے ممکنہ بحران کو روکا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس خط پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ضروری اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف عام شہریوں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے ایندھن کی دستیابی کو قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔

اگرچہ فی الحال ملک میں پیٹرول دستیاب ہے، تاہم تیل کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ انتباہ نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری انتظامی اور مالی اقدامات کے ذریعے ممکنہ قلت کے خدشات کو کم کیا جا سکتا ہے اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. تیل کمپنیوں نے کیا انتباہ دیا ہے؟

تیل کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کا خطرہ موجود ہے۔

  1. ملک میں کتنے دن کا پیٹرول ذخیرہ باقی ہے؟

او سی اے سی کے مطابق تقریباً 15 دن کی ضرورت کے برابر ذخیرہ موجود ہے۔

  1. موجودہ ذخائر کتنے ہیں؟

تقریباً 370 ہزار میٹرک ٹن موٹر اسپرٹ (پیٹرول) موجود ہے۔

  1. سپلائی متاثر ہونے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

درآمدی کارگو میں تاخیر، کسٹمز کلیئرنس کے مسائل، مالی دباؤ اور بڑھتی ہوئی طلب۔

متعلقہ خبریں