خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، ایران امریکا تنازع مذاکرات سے حل ہونا چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد مذاکرات پر رجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی میڈیا بریفنگ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کا دوٹوک مؤقف: خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، ایران امریکا تنازع مذاکرات سے حل ہونا چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور کسی بھی ملک کی جانب سے طاقت یا ہتھیاروں کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا واحد حل مذاکرات، سفارت کاری اور تحمل میں ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف واضح ہے کہ تمام تنازعات کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں مزید کشیدگی نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کریں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امید رکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آ جائے گی، کیونکہ اس اہم بحری گزرگاہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان موجودہ علاقائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اہم عالمی و علاقائی شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو امیرِ قطر سے اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا جبکہ ایرانی صدر کے ساتھ گفتگو میں بھی تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا گیا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سالمیت، خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہے اور امن کے قیام کے لیے سفارتی ذرائع کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) خطے میں مذاکرات اور اعتماد سازی کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتی ہے، جسے تمام فریقین کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

وٹکوف اور کشنر مذاکرات
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق نئے دعوؤں نے سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی۔

پاک امریکا تجارتی مذاکرات میں پیش رفت

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں اور ان میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

افغانستان، برطانیہ اور بھارت سے متعلق مؤقف

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مسلسل امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب تک انسانی امداد پر مشتمل 45 ٹرک روانہ کر چکا ہے، تاہم افغان حکام کی جانب سے ان کی مکمل اجازت نہیں دی جا رہی۔

برطانیہ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے حالیہ واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ملزم برطانوی شہری ہے اور اس معاملے کو پاکستان سے جوڑنا درست نہیں۔

بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی اداروں کی کارروائیوں اور پرانی چارج شیٹس کی مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت آج تک پہلگام واقعے کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا، جبکہ پاکستان کی غیرجانبدار تحقیقات کی پیشکش کو بھی نظرانداز کیا گیا۔

چینی شہریوں کی سیکیورٹی اور عالمی ذمہ داریاں

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں پولیس اہلکاروں پر حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 کے تحت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کے عزم کا مظہر ہے۔

ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئندہ بھی خطے میں امن، استحکام، سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی پالیسی کو فروغ دیتا رہے گا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: پاکستان نے ایران اور امریکا کی کشیدگی پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: پاکستان نے مذاکرات، سفارت کاری اور تحمل پر زور دیتے ہوئے طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔

سوال 2: پاکستان نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

سوال 3: ترجمان دفتر خارجہ نے کس چیز پر زور دیا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات، ڈائیلاگ اور سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔

سوال 4: پاک امریکا تجارتی مذاکرات کے بارے میں کیا بتایا گیا؟
جواب: ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مختلف ادوار کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں