ایرانی حکام نے جے ڈی وینس کو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے متعلق خبردار کیا، امریکی ویب سائٹ کا دعویٰ
وٹکوف اور کشنر مذاکرات سے متعلق ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے سفارتی رابطوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو نجی سطح پر خبردار کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مذاکراتی عمل تک اپنی رسائی کو مالی فوائد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ گفتگو گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایک سفارتی رابطے کے دوران سامنے آئی۔ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر جے ڈی وینس کو بتایا کہ وٹکوف اور کشنر کی مذاکراتی عمل میں شمولیت ایک پائیدار معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے کیونکہ ان کی ترجیح سفارتی پیش رفت کے بجائے معاشی اور مالیاتی فوائد حاصل کرنا ہے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق ایرانی حکام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات سے متعلق حساس معلومات اور رسائی کو بعض حلقے مالیاتی منڈیوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مبینہ طور پر اس طرح حاصل ہونے والے فوائد کی مالیت جون تک تقریباً 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔
تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی عوامی یا عدالتی سطح پر ثابت شدہ شواہد پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی رپورٹ میں ایسے دستاویزات منظر عام پر لائے گئے جن کی آزادانہ تصدیق ممکن ہو۔ اسی لیے ان دعوؤں کو فی الحال الزامات اور رپورٹس کی حد تک ہی دیکھا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "ایرانی پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ اس نوعیت کے دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں اور امریکی انتظامیہ ان الزامات کو سنجیدہ نہیں سمجھتی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کو اس بات پر بھی تحفظات تھے کہ مذاکرات کے دوران بعض امریکی نمائندے اسرائیلی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ اہم سفارتی معاملات اور پیش رفت کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے اعلیٰ حکام کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جا رہا تھا۔
ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ مذاکرات کے آغاز کے بعد سے وٹکوف اور کشنر تقریباً روزانہ اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے میں رہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی غیر قانونی یا غیر معمولی سرگرمی تسلیم نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ جنگ سے قبل عمان اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے ثالثوں کے ذریعے امریکی صدر تک ایک تحریری دستاویز پہنچائی تھی۔ اس دستاویز میں مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی افراد مالیاتی منڈیوں میں اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مذاکراتی عمل میں شامل افراد کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے تاکہ مختلف معاملات پر زیادہ جامع اور متوازن مشاورت ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق محدود مذاکراتی ٹیم بعض اوقات غلط فہمیوں اور مؤقف کے غلط ابلاغ کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں عمان اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی وفد کو محسوس ہوا کہ بعض امریکی نمائندے ایران کے مؤقف کو درست انداز میں واشنگٹن تک منتقل نہیں کر رہے تھے۔ خاص طور پر یورینیم افزودگی اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات میں غلط فہمیوں کا ذکر کیا گیا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہمیشہ حساس نوعیت کے رہے ہیں اور اکثر دونوں فریق ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد سفارتی حلقوں میں مختلف آراء جنم لیتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس رپورٹ کے بعض دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے، جس کے باعث معاملہ فی الحال متضاد دعوؤں اور بیانات تک محدود ہے۔
عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں مزید شواہد یا سرکاری دستاویزات سامنے آتی ہیں تو اس معاملے پر مزید وضاحت ہو سکے گی، تاہم موجودہ صورتحال میں اس رپورٹ کو ایک میڈیا دعوے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی آزادانہ تصدیق تاحال دستیاب نہیں۔
READ MORE FAQS
- امریکی ویب سائٹ نے کیا دعویٰ کیا ہے؟
ویب سائٹ کے مطابق ایران نے جے ڈی وینس کو خبردار کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکراتی رسائی سے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
- یہ مبینہ انتباہ کہاں دیا گیا؟
رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سفارتی رابطوں کے دوران۔
- الزامات کس کے خلاف ہیں؟
اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے خلاف۔
- وائٹ ہاؤس کا مؤقف کیا ہے؟
وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ایرانی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔








