نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں 6.3 شدت کا زلزلہ، حکام نے سونامی وارننگ جاری کردی
نیوزی لینڈ زلزلہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں جنوبی جزیرے میں 6.3 شدت کے زلزلے کے بعد حکام نے سونامی الرٹ جاری کر دیا۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ایمرجنسی ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے اور ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلہ جنوبی جزیرے میں واقع قصبے تیناؤ (Te Anau) کے قریب ریکارڈ کیا گیا۔ یہ علاقہ نیوزی لینڈ کے مشہور سیاحتی خطے فیورڈ لینڈ (Fiordland) کا داخلی راستہ سمجھا جاتا ہے اور ہر سال ہزاروں مقامی و غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (NEMA) کے مطابق زلزلے کا مرکز تیناؤ کے شمال میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ زلزلے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ساحلی علاقوں کی نگرانی شروع کر دی اور ممکنہ سونامی کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات میں امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (GFZ) نے زلزلے کی شدت 5.9 بتائی تھی، جبکہ بعد میں اپ ڈیٹ شدہ معلومات میں شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق زلزلہ زمین کی سطح سے 50 کلومیٹر سے زیادہ گہرائی میں آیا، جس کی وجہ سے اس کے اثرات نسبتاً وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم ابتدائی رپورٹس میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ حکام نے کہا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید معلومات موصول ہونے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
نیوزی لینڈ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو زلزلوں کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ملک بحرالکاہل کے "رنگ آف فائر” نامی خطے میں واقع ہے، جہاں زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق اگرچہ گہرائی میں آنے والے زلزلے بعض اوقات سطحی زلزلوں کے مقابلے میں کم تباہ کن ہوتے ہیں، تاہم ان کی شدت زیادہ ہونے کی صورت میں وسیع علاقوں میں جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سونامی کے خدشات کا جائزہ لینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے ساحلی آبادی کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ صورتحال کا مسلسل تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ خطرے کی نوعیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق زلزلے کے بعد آفٹر شاکس (بعد کے جھٹکوں) کا امکان بھی موجود رہتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ امدادی اور نگرانی کے ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
عالمی سطح پر قدرتی آفات کی نگرانی کرنے والے ادارے بھی اس زلزلے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر سونامی کے خطرے میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے تو متعلقہ اداروں کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔
READ MORE FAQS
- زلزلہ کہاں آیا؟
زلزلہ نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں تیناؤ (Te Anau) کے قریب آیا۔
- زلزلے کی شدت کتنی تھی؟
تازہ اطلاعات کے مطابق زلزلے کی شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی۔
- کیا سونامی الرٹ جاری کیا گیا؟
جی ہاں، حکام نے احتیاطی طور پر سونامی الرٹ جاری کیا ہے۔
- زلزلے کا مرکز کہاں تھا؟
زلزلے کا مرکز تیناؤ کے شمال میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔








