پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت برداشت نہیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت برداشت نہیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح کیا ہے کہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سادگی اور کفایت شعاری سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال غیر یقینی ہے، اس لیے حکومت کو ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے جامع حکمت عملی تیار رکھی جائے۔

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت
پیٹرولیم ڈیلرز نے سپلائی محدود ہونے کے باعث ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

شہباز شریف نے گزشتہ توانائی بچت اور کفایت شعاری مہم میں عوام کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے قومی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے حکومت کو توانائی کے شعبے میں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مستقبل میں معاشی چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، اس لیے بروقت اور مؤثر فیصلوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی یا منافع خوری کے ذریعے عوام کو مشکلات میں ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایندھن کی فراہمی کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، اس لیے قلت کا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ایندھن کی فراہمی کو کامیابی سے برقرار رکھا گیا، جبکہ عام شہری، موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، ٹرانسپورٹرز اور دیگر صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سبسڈی سمیت مختلف اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کافی حد تک محدود رکھا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کے مفادات کے تحفظ اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی، جبکہ توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہیں گے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: وزیراعظم نے کس معاملے پر اجلاس کی صدارت کی؟

جواب: وزیراعظم نے خطے کی کشیدہ صورتحال، ملکی معیشت اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔

سوال 2: وزیراعظم نے کیا ہدایات جاری کیں؟

جواب: وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیا۔

سوال 3: کیا ملک میں پیٹرول کی قلت ہے؟

جواب: حکومتی بریفنگ کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فی الحال حقیقی قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔

سوال 4: حکومت نے عوام کو کیا یقین دہانی کرائی؟

جواب: حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی مصنوعی بحران سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

سوال 5: اجلاس میں معیشت کے حوالے سے کیا کہا گیا؟

جواب: وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے، تاہم خطے کی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت مکمل تیاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں