400 کلو گرام چاندی چوری اسکینڈل کی تحقیقات شروع، ایف بی آر کی 3 رکنی کمیٹی 60 روز میں رپورٹ پیش کرے گی
400 کلو گرام چاندی چوری اسکینڈل کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیراعظم کی منظوری کے بعد ایف بی آر کی جانب سے تین رکنی اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد چاندی چوری کے مبینہ اسکینڈل کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے اور اسے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 60 روز کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ براہ راست وزیراعظم کو پیش کرے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 21 کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل موٹر وے پولیس اشرف زبیر صدیقی کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی جی ریفارمز اینڈ آٹومیشن کسٹمز محمد عمران خان مہمند انکوائری افسر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کو محکمانہ نمائندہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات کے دوران تمام ضروری ریکارڈ اور شواہد کمیٹی کو فراہم کیے جا سکیں۔
تحقیقات کا دائرہ کار کافی وسیع رکھا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سابق کلکٹر کسٹمز کوئٹہ ڈاکٹر کرم الٰہی سمیت مجموعی طور پر 9 افسران کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان افسران میں یوسف مگسی، طارق حسین، محمد یوسف، سمیع اللہ، عارف علی جمانی، یاسر عرفات، علی کامران اور محمد زمان مزاری شامل ہیں۔
حکام کے مطابق انکوائری کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ آیا چاندی کی چوری میں انتظامی غفلت، اختیارات کا غلط استعمال یا کسی قسم کی ملی بھگت موجود تھی یا نہیں۔ کمیٹی متعلقہ ریکارڈ، گواہوں کے بیانات، سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سابق کلکٹر ڈاکٹر کرم الٰہی پہلے ہی ایف آئی اے کی تحویل میں موجود ہیں اور ان سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ انکوائری کمیٹی ایف آئی اے کی تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات کو بھی مدنظر رکھ سکتی ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دی گئیں تو اس سے نہ صرف ذمہ دار عناصر کا تعین ہوگا بلکہ سرکاری اداروں میں احتساب کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ایسے مقدمات میں بروقت اور غیر جانبدارانہ تحقیقات عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف الزامات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب اگر کوئی افسر بے قصور ثابت ہوتا ہے تو اس کے قانونی حقوق کا بھی مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
انکوائری کمیٹی کو تمام متعلقہ محکموں سے مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ مقررہ مدت کے اندر تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں نہ صرف ذمہ داریوں کا تعین کرے گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامی اصلاحات اور سفارشات بھی پیش کرے گی۔
READ MORE FAQS
- 400 کلو گرام چاندی چوری اسکینڈل کیا ہے؟
یہ ایک مبینہ کسٹمز اسکینڈل ہے جس میں 400 کلو گرام چاندی کی چوری کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
- انکوائری کمیٹی کتنے ارکان پر مشتمل ہے؟
ایف بی آر نے تین رکنی اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔
- کمیٹی کب تک رپورٹ پیش کرے گی؟
کمیٹی کو 60 روز کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- کن افسران کے خلاف تحقیقات ہوں گی؟
سابق کلکٹر کسٹمز کوئٹہ ڈاکٹر کرم الٰہی سمیت 9 کسٹمز افسران کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔







