حوثیوں کا موخا بندرگاہ پر 2 ہائپرسونک میزائل داغنے کا دعویٰ

موخا بندرگاہ پر حوثیوں کے میزائل حملے کی نمائندگی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

موخا بندرگاہ پر 2 میزائل حملوں کا دعویٰ

حوثیوں کا میزائل حملہ ایک بار پھر بحیرہ احمر کے خطے میں کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔ یمنی فوج کے دعوے کے مطابق حوثی گروپ نے یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں واقع موخا بندرگاہ کی جانب 2 ہائپرسونک بیلسٹک میزائل داغے۔ ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق دونوں میزائل موخا بندرگاہ اور بحیرہ احمر کی سمت میں فائر کیے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل اپنے مبینہ اہداف تک پہنچے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔

موخا یمن کے مغربی ساحل پر بحیرہ احمر کے کنارے واقع ایک اہم بندرگاہی علاقہ ہے اور اس کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت کے باعث خطے میں ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ بحیرہ احمر پہلے ہی جاری کشیدگی اور بحری حملوں کے باعث عالمی سطح پر ایک حساس سمندری گزرگاہ بن چکا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم حملے کے نتائج کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہوسکی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ دونوں میزائلوں نے کسی تنصیب یا جہاز کو نقصان پہنچایا یا انہیں دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ میزائل حملوں کے نتیجے میں ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے بھی فوری طور پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

بحیرہ احمر کے علاقے میں حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات کے باعث خطے کی بحری سلامتی پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال عالمی تجارت کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ بحیرہ احمر بین الاقوامی سمندری تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ خطے میں مسلسل کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت، شپنگ اخراجات اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. حوثیوں نے کتنے میزائل داغنے کا دعویٰ کیا؟

حوثیوں کے بارے میں یمنی فوج کے دعوے کے مطابق 2 ہائپرسونک بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

  1. میزائل کہاں داغے گئے؟

دعویٰ کیا گیا ہے کہ میزائل موخا بندرگاہ اور بحیرہ احمر کی سمت میں فائر کیے گئے۔

  1. کیا میزائل اپنے ہدف تک پہنچے؟

ابتدائی اطلاعات میں اس کی تصدیق نہیں ہوئی کہ میزائل ہدف تک پہنچے یا راستے میں روک لیے گئے۔

  1. کیا حملے میں جانی نقصان ہوا؟

فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔