کارساز ٹریفک حادثہ کیس: نتاشہ دانش منشیات استعمال کرنے کے مقدمے سے بھی بری

کارساز ٹریفک حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشہ دانش عدالت سے بری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کارساز ٹریفک حادثہ کیس: نتاشہ دانش منشیات استعمال کرنے کے مقدمے سے بھی بری

کراچی: شہر کے معروف کارساز ٹریفک حادثے کی ملزمہ نتاشہ دانش کو عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر منشیات استعمال کرنے کے مقدمے سے بھی بری کر دیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں متاثرہ خاندان کی جانب سے صلح نامہ ہونے کے بعد انہیں اقدامِ قتل سمیت دیگر الزامات کے مقدمے میں بھی بری کر دیا گیا تھا۔

جمعے کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں نتاشہ دانش کے خلاف منشیات استعمال کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے دستیاب شواہد اور استغاثہ کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف منشیات استعمال کرنے کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے بعد انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔

کارساز حادثہ کب پیش آیا؟

واضح رہے کہ کارساز میں یہ افسوسناک حادثہ 19 اگست 2024 کو پیش آیا تھا۔ حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ گئے تھے، جس کے نتیجے میں دونوں باپ بیٹی جان کی بازی ہار گئے۔

2019 کی پاک بھارت فضائی جھڑپ کے بھارتی پائلٹ ابھینندن ورتھمان
ابھینندن ورتھمان بھارتی فضائیہ سے ریٹائر ہو کر کمرشل ایوی ایشن سے وابستہ ہوگئے۔

واقعے کے فوری بعد نتاشہ دانش کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کے خلاف کراچی کے تھانہ بہادر آباد میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

کارساز ٹریفک حادثہ کے بعد سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک تیز رفتار گاڑی کو سروس روڈ پر موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے کے بعد آگے جا کر ایک اور گاڑی سے بھی ٹکرائی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

منشیات کے استعمال کا الزام اور عدالتی فیصلہ

کارساز ٹریفک حادثہ کے بعد سرکاری سطح پر یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ملزمہ حادثے کے وقت نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہی تھیں۔ اس بنیاد پر ان کے خلاف منشیات استعمال کرنے کے الزام میں بھی مقدمہ درج کیا گیا۔

تاہم حالیہ سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد منشیات استعمال کرنے کا الزام ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نتاشہ دانش کے وکیل فواد علی کچھی نے کہا کہ عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر ملزمہ کو بری کیا ہے۔

ان کے مطابق کیمیکل ایگزمینر اور خون کے ٹیسٹ سے متعلق رپورٹ میں ملزمہ کے خون میں مبینہ طور پر آئس کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔

وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے نمونوں کے حوالے سے قانونی اعتراضات موجود تھے اور ان کے مطابق نمونوں کے ساتھ ٹیمپرنگ کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

ہری پور میں لاپتا 5 سالہ بچی آیت نور کی لاش برآمد
ہری پور میں دو ہفتے سے لاپتا 5 سالہ بچی کی لاش برآمد، پولیس کی تحقیقات جاری۔

قتل کے مقدمے میں صلح نامے کے بعد بریت

اس سے قبل اکتوبر 2024 میں حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا کی جانب سے نتاشہ دانش کو معاف کرنے کے بعد عدالت نے انہیں مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

متاثرہ خاندان کی جانب سے اس وقت کہا گیا تھا کہ انہوں نے ملزمہ کو فی سبیل اللہ معاف کیا ہے اور یہ فیصلہ کسی مالی معاوضے کے بغیر کیا گیا۔

عمران عارف کے بھائی نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نتاشہ دانش کے اہلخانہ نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، تعزیت کی اور معذرت کی تھی، جس کے بعد خاندان نے معافی کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ قانونی طور پر متاثرہ خاندان کے پاس قصاص، دیت یا بغیر معاوضے کے معافی کے مختلف راستے موجود تھے اور خاندان نے معاف کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

کارساز ٹریفک حادثہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جبکہ ملزمہ سے متعلق متعدد غیر مصدقہ دعوے بھی سامنے آئے۔

اس دوران ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جسے بعد میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ تصویر قرار دیا گیا۔

متاثرہ خاندان کی جانب سے صلح نامہ اور معافی کے فیصلے کے بعد بھی سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں نے عدالتی اور قانونی نظام سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کی فرانزک تحقیقات
حنا جاوید قتل کیس میں پولیس نے گرفتار ملزمان کے پولی گرافک اور ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرلیے۔

عمران عارف اور آمنہ عارف کون تھے؟

کارساز ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف اپنے خاندان کے لیے روزگار فراہم کرتے تھے، جبکہ ان کی بیٹی آمنہ عارف ایک تعلیم یافتہ اور محنتی نوجوان خاتون تھیں۔

اہلخانہ کے مطابق آمنہ عارف نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا تھا اور گھر کے مالی معاملات میں بھی خاندان کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق وہ اپنے کام میں محنتی تھیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کوشاں تھیں۔

کارساز ٹریفک حادثہ میں باپ اور بیٹی کی ہلاکت نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا تھا اور واقعے نے پاکستان میں ٹریفک قوانین، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور بااثر افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق ایک اہم بحث کو بھی جنم دیا۔

نتاشہ دانش تمام مقدمات سے بری

حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد نتاشہ دانش کو کارساز حادثے سے متعلق منشیات استعمال کرنے کے مقدمے سے بھی بری کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل متاثرہ خاندان کے ساتھ صلح نامے کے بعد دیگر مقدمات میں بھی انہیں قانونی ریلیف مل چکا تھا۔

کارساز ٹریفک حادثہ کیس پاکستان میں گزشتہ برس کے سب سے زیادہ زیر بحث ٹریفک حادثات میں شمار ہوتا ہے، جس کے مختلف قانونی اور سماجی پہلو طویل عرصے تک عوامی توجہ کا مرکز رہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: نتاشہ دانش کو کس مقدمے سے بری کیا گیا؟
جواب: کراچی کی عدالت نے انہیں منشیات استعمال کرنے کے مقدمے سے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔

سوال: کارساز حادثہ کب پیش آیا تھا؟
جواب: کارساز کا المناک ٹریفک حادثہ 19 اگست 2024 کو پیش آیا تھا۔

سوال: حادثے میں کون جاں بحق ہوا تھا؟
جواب: حادثے میں موٹر سائیکل سوار عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف جاں بحق ہوئے تھے۔

سوال: نتاشہ دانش کو پہلے کس بنیاد پر بری کیا گیا تھا؟
جواب: متاثرہ خاندان کی جانب سے صلح اور معافی کے بعد انہیں اقدامِ قتل کے مقدمے سے بری کیا گیا تھا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:18 AM
طلوع آفتاب05:43 AM
ظہر12:07 PM
عصر03:43 PM
مغرب06:31 PM
عشاء07:56 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6