اسحاق ڈار کا نیپال سفارتخانے کا دورہ، سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ پر افسوس
اسحاق ڈار نیپال سفارتخانہ پہنچے جہاں انہوں نے نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں واقع نیپال کے سفارتخانے کا دورہ کیا اور قدرتی آفت میں جانوں سے ہاتھ دھونے والے افراد کی یاد میں رکھی گئی تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ قدرتی آفات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات پورے خطے کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں شدید نوعیت کے موسمی واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جس سے انسانی جانوں، روزگار، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اسحاق ڈار نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کو خطے کے ممالک کے لیے اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی اور مؤثر تیاری بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نیپال کی امدادی اور بحالی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور قدرتی آفت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان مشکل حالات میں دوست ممالک کے ساتھ کھڑا ہونے کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔
نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات کو نمایاں کیا ہے۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے انسانی آبادیوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نیپال سفارتخانہ کے دورے کے دوران تعزیتی کتاب میں تاثرات درج کرنا دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مشکل وقت میں باہمی ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے نیپال کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اس بات کا بھی اظہار ہے کہ قدرتی آفات کے موقع پر انسانی ہمدردی اور باہمی تعاون کو اہمیت دی جاتی ہے۔
نائب وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات پر بات کرتے ہوئے انسانی جانوں کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: اسحاق ڈار نے نیپال کے سفارتخانے کا دورہ کیوں کیا؟
جواب: انہوں نے نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سفارتخانے کا دورہ کیا۔
سوال: اسحاق ڈار نے نیپال کے بارے میں کیا پیغام دیا؟
جواب: انہوں نے نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور امدادی و بحالی کی کوششوں میں تعاون کی پیشکش کی۔
سوال: اسحاق ڈار نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے ممالک کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہی ہے اور اس سے انسانی جانوں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
سوال: پاکستان نے نیپال کے لیے کیا تعاون پیش کیا؟
جواب: پاکستان نے قدرتی آفت کے اثرات سے نمٹنے اور امدادی و بحالی کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔








