محسن نقوی کا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت، کہا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نئے انتظامی یونٹس اور اسلام آباد کو صوبہ بنانے سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

محسن نقوی کا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت، کہا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ کسی ایک حکومت، سیاسی جماعت یا فرد واحد کی خواہش پر نہیں بلکہ عوام کی مرضی، عوامی اتفاق اور سیاسی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے حالیہ بیان میں ملک کے نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے سے متعلق گفتگو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اشارہ کسی سیاسی جماعت، حکومت یا کسی نئے سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا۔ ان کے مطابق نظام کو ری سیٹ کرنے کا مطلب نظام کو توڑنا یا غیر آئینی طریقے سے تبدیل کرنا نہیں بلکہ ان خامیوں اور مسائل کو درست کرنا ہے جو ملک کی ترقی اور عوام کو مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، سیاسی قیادتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، تاہم ملک کے قیام کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان ابھی تک متعدد شعبوں میں عوام کو مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی اصلاحاتی عمل کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور اس کے لیے عوامی رائے اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

آزاد کشمیر کابینہ کی حلف برداری کی تقریب
آزاد کشمیر کابینہ کے ارکان کی ایوان صدر میں حلف برداری

’نظام کو توڑنا نہیں، غلطیوں کو درست کرنا ہے‘

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے ’’ری سیٹ‘‘ کے بیان کو بعض حلقوں کی جانب سے غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظام کی اصلاح کا مطلب ریاستی یا آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ان امور کو بہتر بنانا ہے جو وقت کے ساتھ غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔

محسن نقوی کے مطابق پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ قومی معاملات کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اور انتظامی نظام میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات اور حکمرانی کے مؤثر نتائج فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں کوئی بھی غیر آئینی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا اور ملک میں ہونے والی ہر اصلاح آئین اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

نئے انتظامی یونٹس عوام کی خواہش سے بننے چاہییں

محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، تاہم اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کی بات کی جاتی ہے تو مختلف اعتراضات سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے انتظامی ڈھانچے میں عوامی مسائل کے فوری حل اور حکومتی سہولیات کی مؤثر فراہمی کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی خواہش کے مطابق نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے عوامی رائے کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اہم قومی فیصلے عوام کے اعتماد اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ کیے جائیں تو ان کے نتائج زیادہ مؤثر اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

مریم نواز لندن دورہ، وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نجی دورے پر لندن روانہ ہوں گی

اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی حمایت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی بھی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو اس وقت نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے تحت براہِ راست وہ مالی وسائل حاصل نہیں ہوتے جو صوبوں کو ملتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے شہریوں اور اس کے انتظامی معاملات کے حوالے سے ایک جامع اور مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے ترقیاتی اور انتظامی معاملات میں مستقل اور مضبوط مالی و حکومتی ڈھانچے پر غور کیا جانا چاہیے۔

محسن نقوی کے مطابق اسلام آباد کو صوبے کا درجہ دینے سے اس کے شہریوں کی نمائندگی اور انتظامی امور کو مزید مؤثر انداز میں چلانے میں مدد مل سکتی ہے۔

’نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے‘

وفاقی وزیر داخلہ نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حامی افراد سے کہا کہ وہ اپنی مثبت سوچ اور امید کو ختم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ پاکستان میں مستقبل میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہوں گے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر عوام کی خواہش اور ضرورت کسی انتظامی تبدیلی کے حق میں ہو تو اسے طویل عرصے تک روکا نہیں جا سکتا۔ ان کے بقول یہ معاملہ کسی فرد واحد یا ایک سیاسی جماعت کے اختیار تک محدود نہیں بلکہ اسے عوامی خواہش کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام عوام کے دل کی آواز بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت پیش رفت ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی اصلاح یا انتظامی تبدیلی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ مکالمے، عوامی مشاورت اور سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

محسن نقوی کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ملک میں انتظامی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو مستقبل کی حکمرانی کے اہم معاملات میں شمار کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ عوامی خواہش، سیاسی اتفاق اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: محسن نقوی نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ کسی ایک فرد، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوامی خواہش اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔

سوال 2: نظام کو ری سیٹ کرنے سے محسن نقوی کی کیا مراد ہے؟

جواب: ان کے مطابق نظام کو ری سیٹ کرنے کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اس میں موجود خامیوں اور غلطیوں کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے درست کرنا ہے۔

سوال 3: کیا محسن نقوی اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے حامی ہیں؟

جواب: جی ہاں، محسن نقوی نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے انتظامی اور مالی مسائل پر توجہ ضروری ہے۔

سوال 4: کیا نئے انتظامی یونٹس غیر آئینی طریقے سے بنائے جائیں گے؟

جواب: نہیں، محسن نقوی نے واضح کیا کہ کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں ہونے دیا جائے گا اور تمام اصلاحات آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائیں گی۔

سوال 5: پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟

جواب: بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی ضروریات، بہتر حکمرانی اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:19 AM
طلوع آفتاب05:44 AM
ظہر12:07 PM
عصر03:42 PM
مغرب06:29 PM
عشاء07:55 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6