بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان 3 ایم پی او کے تحت گرفتار
لاہور، 20 ستمبر 2026: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ خاندانی ذرائع اور ان کے وکیل نے علیمہ خان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو لاہور جمخانہ کے قریب اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے گھر سے جمخانہ کی جانب جارہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق علیمہ خان کے ہمراہ ان کا ڈرائیور بھی موجود تھا، تاہم بعد میں اسے واپس بھیج دیا گیا جبکہ علیمہ خان کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

3 ایم پی او کے تحت کارروائی
رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کی گرفتاری پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (3-MPO) کے تحت کی گئی۔ پولیس کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے ان کی حراست کا حکم جاری کیا گیا۔
پولیس کی درخواست میں مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ علیمہ خان کو نقصِ امن کے خدشے کے پیش نظر حراست میں لینا ضروری ہے۔ ڈان کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور کے دفتر نے علیمہ خان کی حراست کا حکم 30 دن کے لیے جاری کیا۔
علیمہ خان کو کہاں منتقل کیا گیا؟
خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو حراست میں لیے جانے کے بعد لٹن روڈ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا، جبکہ ان کی گاڑی بھی تھانے میں موجود رہی۔
بعد ازاں انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم مختلف رپورٹس میں اس حوالے سے تفصیلات مختلف رہیں۔ اس لیے حتمی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔
وکیل اور خاندان کی جانب سے تصدیق
علیمہ خان کے وکیل خالد یوسف نے بھی ان کی حراست کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق گرفتاری سے قبل ان کی علیمہ خان سے فون پر بات ہوئی تھی۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کی گرفتاری کے وقت بھی خاندان کے ایک فرد سے ان کا فون پر رابطہ ہوا تھا۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
علیمہ خان کی گرفتاری پر پاکستان تحریک انصاف نے بھی ردعمل دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ علیمہ خان کے ساتھ ساتھ پارٹی کارکنوں کی بھی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔
علیمہ خان کی حراست ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ڈان کے مطابق پارٹی کا اعلان کردہ احتجاج عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات سے متعلق ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے حوالے سے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بھی سکیورٹی و انتظامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
سرکاری مؤقف
علیمہ خان کی حراست کے حوالے سے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر تفصیلی عوامی مؤقف سامنے نہیں آیا تھا۔
مزید یہ کہ ان کی حراست کی قانونی مدت، انہیں کس جیل میں منتقل کیا جائے گا اور آیا کسی الگ مقدمے میں بھی گرفتاری ظاہر کی جائے گی، اس حوالے سے مزید سرکاری وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔
علیمہ خان کو کوئی کاغذ دلھا کر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ علیمہ خان کو اغوا کیا گیا ہے ، ہمیں تاحال کوئی علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں کس حال میں ہیں لیکن اگر کسی کو لگتا ہے کہ علیمہ کو اغوا کر کے یہ 27 ستمبر کو روک لیں گے تو ایسا نہیں ہونے لگا۔ یہ ظلم اب گھر گھر کی کہانی ہے ہم نکلیں… pic.twitter.com/P109cBMzpk
— Sehrish Maan (@SMunirMaan) September 20, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: علیمہ خان کو کیوں گرفتار کیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق پولیس کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور نے 3-MPO کے تحت حراست کا حکم جاری کیا، جس میں نقصِ امن کے خدشے کا ذکر کیا گیا ہے۔
سوال 2: علیمہ خان کو کتنے دن کے لیے حراست میں لیا گیا؟
Dawn کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور کے حکم میں 30 روزہ حراست کا ذکر ہے۔
سوال 3: علیمہ خان کو کہاں سے حراست میں لیا گیا؟
خاندانی ذرائع کے مطابق انہیں لاہور جمخانہ کے قریب اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے گھر سے جمخانہ کی طرف جارہی تھیں۔
سوال 4: علیمہ خان کی گرفتاری کی تصدیق کس نے کی؟
خاندانی ذرائع نے گرفتاری کی تصدیق کی، جبکہ مختلف رپورٹس میں 3-MPO کے تحت حراست کا ذکر کیا گیا ہے۔






