شہباز شریف بوسنیا ملاقات: عالمی امور اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بوسنیا و ہرزیگووینا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا، جن میں سیاسی و اقتصادی تعاون، دفاع، ہنرمند افرادی قوت کا تبادلہ، تعلیم اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجارتی شراکت داری بڑھانے کی خواہش
وزیراعظم شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ان تعلقات کو تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
بوسنیا کی خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت
شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا سے وابستہ ہے۔
یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات پر مبارکباد
وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کے باضابطہ آغاز پر ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے تجارت اور علاقائی روابط کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔
پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا گیا
ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور حالات معمول پر لانے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔ یہ بیان پاکستان کی علاقائی سطح پر سفارتی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت
ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی غیر قانونی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ یہ بیان علاقائی پانی کے تنازعات پر پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر ملنے والی حمایت کا اظہار ہے۔
آئندہ اعلیٰ سطحی دوروں کا فیصلہ
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے لیے باہمی رابطے میں رہنے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح دوروں کے تبادلے کو بھی فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاک بوسنیا تعلقات
پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے تعلقات تاریخی اور برادرانہ نوعیت کے سمجھے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے سفارتی، اقتصادی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں کی ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستانی وفد اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سلسلے میں نیویارک میں سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
READ MORE FAQS
- وزیراعظم شہباز شریف نے کس سے ملاقات کی؟
بوسنیا و ہرزیگووینا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے۔ - ملاقات میں کن شعبوں پر بات چیت ہوئی؟
سیاسی و اقتصادی تعاون، دفاع، ہنرمند افرادی قوت کا تبادلہ، تعلیم اور ثقافت پر۔ - وزیراعظم نے بوسنیا کو کیا پیشکش کی؟
انہوں نے بوسنیا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے تجارتی مرکز کے طور پر دیکھنے کی بات کی۔ - ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے پاکستان کے کس کردار کو سراہا؟
انہوں نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔








