لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے سیکرٹری جنرل مقرر: وزارت خارجہ
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ تقرری سہ فریقی دفاعی اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
کون سے عہدے پر تعیناتی؟
وزارت خارجہ کے مطابق سیکرٹری جنرل ریاض میں قائم کیے جانے والے اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کی قیادت کریں گے۔ اس عہدے کے قیام سے مکہ دفاعی معاہدے کو ایک باضابطہ انتظامی اور آپریشنل مرکز میسر آئے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
یاد رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی بھی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت ایک رکن ملک پر جارحیت کو تمام اراکین کے خلاف جارحیت سمجھا جاتا ہے۔
جنرل سیکرٹریٹ کا قیام کیوں اہم ہے؟
کسی بھی کثیر الملکی دفاعی اتحاد کے لیے ایک مستقل سیکرٹریٹ اور اس کی قیادت کا تقرر ادارہ جاتی مضبوطی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ریاض میں قائم ہونے والا یہ جنرل سیکرٹریٹ مکہ معاہدے کے تحت رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کا کردار
حالیہ عرصے میں پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے، جس میں سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط شامل ہیں۔ ایسے علاقائی دفاعی اتحاد عموماً رکن ممالک کے درمیان سلامتی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔
READ MORE FAQS
- مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل کون مقرر ہوئے؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود۔ - سیکرٹری جنرل کہاں تعینات ہوں گے؟
وہ ریاض میں قائم کیے جانے والے اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کی قیادت کریں گے۔ - مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کن ممالک کے درمیان ہے؟
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان۔ - اس معاہدے کی بنیادی شق کیا ہے؟
اس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی بھی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔








