خیبرپختونخوا گورنر راج ایمرجنسی پر وزیراعظم ہاؤس میں آج اعلیٰ سطح اجلاس، آرٹیکل 232 اور 234 کی روشنی میں مشاورت متوقع
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں آج اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوگا، جس میں کے پی گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
اجلاس کب اور کن کے درمیان ہوگا؟
ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس دوپہر دو بجے کے بعد کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، جس میں وفاقی وزرا اور اہم ذمہ داران شرکت کریں گے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
آئینی آرٹیکل 232 اور 234 پر مشاورت
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کی ناکامی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔ کے پی کی صورتحال پر آئینی آرٹیکل 232 (ایمرجنسی) اور 234 (گورنر راج) کی روشنی میں مشاورت کی جائے گی۔
وفاقی وزرا کے الزامات
وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ کے پی کی صوبائی حکومت سیاسی عزائم کو آگے بڑھا رہی ہے اور ٹی ٹی پی کے خطرے کے خلاف اداروں کو تعاون فراہم نہیں کر رہی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کا جوابی مؤقف
دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس نے وفاقی وزرا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت چاہے کچھ بھی کر لے، لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔
پی ٹی آئی کے اندر بھی اختلافِ رائے
خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ کر لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
آرٹیکل 232 اور 234 کا فرق
آرٹیکل 232 کا بنیادی جواز جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی ہے جس پر صوبائی حکومت قابو نہ پا سکے۔ اس کے تحت ایمرجنسی لگنے کی صورت میں صوبائی اسمبلی برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ انتظامی اختیارات وفاق کے نامزد نمائندے یا گورنر کے ذریعے چلائے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق ہے، جو اس وقت استعمال ہوتا ہے جب صدرِ مملکت اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ آرٹیکل 234 کے تحت جاری اعلان کی صورت میں صوبائی اسمبلی کا مستقبل زیادہ غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور مشیرِ سیاسی امور رانا ثنااللہ بھی کہہ چکے ہیں کہ گورنر راج، ایمرجنسی اور سیاسی مذاکرات — تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، تاہم حتمی فیصلہ آئینی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں آج اعلیٰ سطح اجلاس متوقع ہے، جس میں آئینی آرٹیکل 232 اور 234 کی روشنی میں مشاورت کی جائے گی۔ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ ہر صورت جاری رہے گا۔
READ MORE FAQS
- آج کا اجلاس کہاں اور کب ہوگا؟
وزیراعظم ہاؤس میں، ذرائع کے مطابق دوپہر دو بجے کے بعد کسی بھی وقت۔ - اجلاس کا مقصد کیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ۔ - کون سے آئینی آرٹیکلز زیرِ غور ہیں؟
آرٹیکل 232 (ایمرجنسی) اور آرٹیکل 234 (گورنر راج)۔ - وفاقی وزرا کے کیا الزامات ہیں؟
ان کے مطابق صوبائی حکومت سیاسی عزائم کو آگے بڑھا رہی ہے اور ٹی ٹی پی کے خطرے کے خلاف تعاون نہیں کر رہی۔








