وزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس شروع، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر غور
وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم اجلاس شروع ہوگیا ہے۔
اجلاس میں کون شریک ہے؟
وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس کے دوران وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ کشمیر امور امیر مقام، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ بھی شریک ہیں۔
گورنر راج پر غور
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں گورنر راج اور دیگر آپشنز پر غور ہوگا۔
ایوانِ صدر میں بھی اجلاس طلب
ادھر صدر آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم کی صدر سے ملاقات کا امکان
ذرائع نے مزید بتایا کہ صدرِ مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ محسن نقوی اور امیر مقام سے ملاقات کے بعد وزیراعظم ایوانِ صدر جائیں گے۔
آئینی آرٹیکلز زیرِ غور
دیگر ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 233 (ایمرجنسی) اور آرٹیکل 234 (گورنر راج) سے متعلق قانونی آرا بھی لی جا رہی ہیں، اور صدر مملکت سے ملاقات میں ان آئینی اقدامات کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کا معاملہ بھی زیرِ غور
اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کا معاملہ بھی زیرِ بحث لایا گیا، جبکہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری پسِ پردہ رابطوں اور مختلف امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مارچ پرامن ہوگا اور وہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات
اسی دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں اہم آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کیسے بڑھی کشیدگی؟
وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان امن و امان، طرزِ حکمرانی اور پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزرا کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنے سیاسی عزائم کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اداروں کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہی۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر آئینی تقاضے پورے ہوں تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس نے وفاقی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی مؤقف پر قائم ہے۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت مشاورت کرے تو پارٹی گورنر راج سے متعلق آئینی تجاویز دے گی۔
بیک وقت وزیراعظم ہاؤس اور ایوانِ صدر میں اجلاسوں کا انعقاد، نیز قومی اسمبلی کے اسپیکر کی مداخلت، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حتمی فیصلہ آئینی تقاضوں اور صدر مملکت سے مشاورت کے بعد ہی متوقع ہے۔
خیبرپختونخوا کی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر وزیراعظم ہاؤس اور ایوانِ صدر دونوں میں اہم اجلاس ہو رہے ہیں، جن میں آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت گورنر راج و ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی صدر سے ملاقات متوقع ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 4 اکتوبر کو پرامن لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
READ MORE FAQS
- آج کا اجلاس کہاں ہو رہا ہے؟
وزیراعظم ہاؤس میں، وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت۔ - اجلاس میں کون شریک ہے؟
وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ کشمیر امور امیر مقام، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ۔ - ایوانِ صدر میں کیا ہو رہا ہے؟
صدر آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کی صورتحال کے جائزے کے لیے اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ - کون سے آئینی آرٹیکلز زیرِ غور ہیں؟
آرٹیکل 233 (ایمرجنسی) اور آرٹیکل 234 (گورنر راج)۔








