بلاول بھٹو اسلام آباد تھر سے متعلق خطاب میں کہا کہ اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھرپارکر والوں کے حوالے کردیں
بلاول بھٹو اسلام آباد تھر سے متعلق اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اگر اسلام آباد کا نظام ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھرپارکر کے لوگوں کے حوالے کردیا جائے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے یہ بات تھرکول بلاک ٹو کے توسیعی منصوبے فیز تھری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں تھر میں ہونے والی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں تعلیم، صحت، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق تھر کی موجودہ صورتحال اس پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے جو گزشتہ برسوں میں مختلف منصوبوں کے ذریعے سامنے آئی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک وقت میں اسلام آباد کے بعض ماہرین تھر کے کوئلے کو قابلِ استعمال نہ ہونے والا وسیلہ قرار دیتے تھے اور یہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق تھر بلاک ٹو میں پہلے 600 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی، جبکہ اب پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔
انہوں نے تھرکول منصوبے کو توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی کوئلے کے استعمال سے ملک کو زرمبادلہ کی بچت بھی ہورہی ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق تھر کے کوئلے سے تقریباً 1.6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچانے میں مدد مل رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے تھر میں تعلیم کے شعبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ علاقے کے بچے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کو تھر میں ہونے والی مجموعی تبدیلی سے جوڑا اور کہا کہ ان کامیابیوں کو سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے کراچی کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سیاسی جماعت پر تنقید بھی کی۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر نفرت اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ایسی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ بیانات ان کی سیاسی رائے اور تنقید کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے تھرپارکر کو ملک کے آئینی اور انتظامی نظام کے حوالے سے بھی اہم مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کی ترقی کو ملک کے دیگر علاقوں تک بھی لے جانے کی ضرورت ہے اور اسلام آباد کو بھی تھر میں اختیار کیے گئے ترقیاتی ماڈل سے استفادہ کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اگر نظام کی ناکامی کو نئے صوبوں کے قیام کی وجہ قرار دیا جارہا ہے تو ان کے نزدیک یہ منطق قابلِ فہم نہیں۔ انہوں نے اسی تناظر میں کہا کہ اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھرپارکر والوں کے حوالے کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تھر کے لوگوں کو اسلام آباد کی ذمہ داری دی جائے تو وہ وہاں کے اسپتالوں اور دیگر شعبوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ بلاول بھٹو کے مطابق تھر کے بچوں اور عوام نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں ثابت کی ہیں۔
تھرکول فیز تھری منصوبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ ان کے مطابق فیز تھری سے لکی الیکٹرک کا 660 میگاواٹ کا پاور پلانٹ تھر کے مقامی کوئلے پر چلایا جائے گا اور تھر سے بجلی کی مجموعی پیداوار تقریباً 1,980 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
مراد علی شاہ کے مطابق تھرکول فیز تھری سے سالانہ تقریباً 220 ملین ڈالر کے اضافی زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے، جبکہ منصوبہ سو فیصد مقامی مالی اعانت سے مکمل کیا جارہا ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب کے اختتام پر تھر کی ترقی کو ملک کے دوسرے علاقوں کے لیے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھر کے ماڈل سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترقی، تعلیم، صحت اور توانائی کے شعبوں میں حاصل ہونے والے نتائج کو وسیع سطح پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
یوں تھرکول فیز تھری کی افتتاحی تقریب میں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کا بڑا حصہ تھر کی ترقی، مقامی وسائل کے استعمال، تعلیم اور توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے نظام پر سیاسی تنقید کے گرد رہا۔
READ MORE FAQS
سوال: بلاول بھٹو نے اسلام آباد کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر اسلام آباد کا نظام ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھرپارکر والوں کے حوالے کردیا جائے۔
سوال: بلاول بھٹو نے یہ بیان کہاں دیا؟
جواب: انہوں نے تھرکول بلاک ٹو کے توسیعی منصوبے فیز تھری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
سوال: بلاول بھٹو نے تھر کی ترقی کے حوالے سے کیا کہا؟
جواب: انہوں نے تھر میں تعلیم، صحت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا۔
سوال: تھرکول منصوبے کے بارے میں بلاول بھٹو نے کیا بتایا؟
جواب: ان کے مطابق تھر کے کوئلے سے بجلی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی کوئلے کے استعمال سے زرمبادلہ کی بچت بھی ہورہی ہے۔








