پیٹرول کی قیمت پر وزیر پیٹرولیم کا بیان، عوامی مشکلات کا اعتراف
پیٹرول کی قیمت اور تیل کی بڑھتی ہوئی لاگت کے حوالے سے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عوامی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کے باعث شہریوں کو درپیش مسائل کا احساس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت کا تعین ہونے کے بعد اس کی تفصیلات عوام کے سامنے شفاف انداز میں رکھی جاتی ہیں۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، تیل کی فراہمی اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیر پیٹرولیم نے موجودہ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
علاقائی کشیدگی سے تیل کی سپلائی متاثر
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کو بتایا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پیٹرول، ڈیزل اور خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی مشکلات نے توانائی کے شعبے کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں ڈیزل اتنا مہنگا نہیں ہوا۔ وزیر پیٹرولیم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ موجودہ قیمتوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کا اثر پاکستان جیسے درآمدی ضروریات رکھنے والے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔ خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ، ٹیکس اور دیگر محصولات پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت کے اہم عوامل میں شامل ہوتے ہیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں شفافیت پر زور
اجلاس میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے معلومات نہیں چھپائیں۔ ان کے مطابق متعلقہ تفصیلات آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
علی پرویز ملک نے پیٹرولیم لیوی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیوی عائد ہے اور اس کی مقدار 80 روپے کے حوالے سے بیان کی گئی۔ تاہم اجلاس میں ان کے بیان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر لاگو لیوی اور قیمتوں کے دیگر اجزا کی تفصیلات متعلقہ سرکاری معلومات سے دیکھی جاسکتی ہیں۔
وزیر پیٹرولیم کا مؤقف تھا کہ حکومت قیمتوں کے تعین سے متعلق معلومات عوام تک پہنچا رہی ہے اور شہریوں کو بتایا جاتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت کس حساب سے بنتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی پر نوید قمر کے سوالات
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نوید قمر نے پیٹرولیم لیوی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ نان ٹیکس ریونیو ہے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں براہ راست ووٹنگ نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا اختیار انتظامیہ کے پاس ہے اور حکومت اس میں تبدیلی کرسکتی ہے۔
اس پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ پیٹرولیم لیوی کے اہداف بجٹ میں مختص کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اہداف میں تبدیلی بھی بین الاقوامی شراکت داروں سے متعلق شرائط کے باعث آسان نہیں۔
وزیر پیٹرولیم کے اس بیان سے اجلاس میں پیٹرولیم لیوی کے مالیاتی پہلو اور حکومتی اختیارات کے حوالے سے بحث سامنے آئی۔ لیوی کی شرح میں تبدیلی کا معاملہ جہاں عوامی اخراجات سے جڑا ہے، وہیں اس کا تعلق حکومتی محصولات اور بجٹ اہداف سے بھی ہوتا ہے۔
عوامی مشکلات پر ارکان کمیٹی کی تشویش
اجلاس کے دوران معین عامر پیرزادہ نے عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگے تیل کے باعث شہری پریشان ہیں اور قیمتوں کے معاملے پر غور کیا جانا چاہیے۔
جواب میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ انہیں عوامی مشکلات کا احساس ہے اور وہ خود بھی اپنے حلقے میں لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت پیٹرول کی قیمت کا تعین ہونے کے بعد اس کی تفصیلات صاف اور شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھتی ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں گھریلو بجٹ، ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایندھن کی لاگت میں اضافہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ مال برداری اور پیداواری شعبوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی اور عوامی اخراجات کا تعلق
پیٹرولیم لیوی حکومت کے محصولات کا ایک ذریعہ ہے، جس کی وصولی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس کی شرح میں تبدیلی سے حکومتی آمدن اور صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔
قیمتوں میں کمی کے مطالبات کے دوران حکومت کو ایک طرف عوامی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف بجٹ اہداف، محصولات کی ضروریات اور عالمی مالیاتی وعدوں کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ اسی لیے پیٹرولیم لیوی کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت متعدد مالیاتی عوامل اہم ہوتے ہیں۔
تاہم عوام کے لیے قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار سمجھنا بھی ضروری ہے۔ متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے قیمتوں کے اجزا اور ان میں تبدیلی کی وجوہات واضح انداز میں فراہم کیے جانے سے شفافیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اجلاس میں قیمتوں پر بحث جاری
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس میں سامنے آنے والے بیانات سے واضح ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، عالمی سپلائی کی صورتحال اور لیوی کا معاملہ زیر بحث ہیں۔ وزیر پیٹرولیم نے عوامی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا مؤقف پیش کیا، جبکہ کمیٹی کے ارکان نے عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ اور لیوی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔
READ MORE FAQS
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول کی قیمت کے بارے میں کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا احساس ہے اور پیٹرول کی قیمت کے تعین سے متعلق معلومات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔
تیل کی سپلائی کیوں متاثر ہوئی ہے؟
وزیر پیٹرولیم کے مطابق علاقائی کشیدگی کے باعث پیٹرول، ڈیزل اور خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے بارے میں نوید قمر نے کیا کہا؟
نوید قمر نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی نان ٹیکس ریونیو ہے اور اس کے طریقہ کار میں پارلیمنٹ کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔
پیٹرولیم لیوی کے بجٹ اہداف پر وزیر پیٹرولیم کا کیا مؤقف تھا؟
علی پرویز ملک کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے اہداف بجٹ میں مختص ہیں اور ان میں تبدیلی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے متعلق شرائط بھی اہم ہیں۔








