راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اسٹاف نرس پر تشدد کے مقدمے میں عدالت نے ملزمہ زربینہ بی بی کی عبوری ضمانت کنفرم کردی
راولپنڈی کارڈیالوجی اسپتال نرس کیس میں عدالت نے ملزمہ زربینہ بی بی کی عبوری ضمانت کنفرم کردی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قاسم جاوید نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ کو سات روز کے اندر 30 ہزار روپے مالیت کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ نرس اور ملزمہ کے درمیان جھگڑے کی بنیاد پر خاتون کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ عدالت کے اس مؤقف کے بعد ملزمہ کی جانب سے پہلے سے حاصل کی گئی عبوری ضمانت کنفرم کردی گئی۔
عدالت کا فیصلہ اور ضمانتی مچلکوں کا حکم
راولپنڈی میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی اسٹاف نرس پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں زربینہ بی بی نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ان کی ضمانت کنفرم کرتے ہوئے سات روز کے اندر 30 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت کے ریمارکس کے مطابق نرس اور ملزمہ کے درمیان جھگڑے پر خاتون کو گرفتار کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ یہ ریمارکس مقدمے کی سماعت کے دوران دیے گئے، جبکہ ضمانت کنفرم ہونے کا فیصلہ ملزمہ کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔
اسپتال میں علاج کے معاملے پر جھگڑا
مقدمے کے مطابق زربینہ بی بی راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل ایک مریضہ کی رشتہ دار تھیں۔ علاج معالجے کے معاملے پر ان کا اسٹاف نرس ستارہ سلیم کے ساتھ جھگڑا ہوگیا تھا۔
اسٹاف نرس ستارہ سلیم نے ملزمہ کے خلاف تشدد اور کپڑے پھاڑنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ اس مقدمے میں زربینہ بی بی نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کی، جسے اب کنفرم کردیا گیا ہے۔
سماعت کے موقع پر نرس بھی عدالت میں موجود تھیں
مقدمے کی سماعت کے موقع پر اسٹاف نرس ستارہ سلیم بھی عدالت میں موجود تھیں۔ عدالت نے کیس کی کارروائی کے بعد ملزمہ کی عبوری ضمانت کنفرم کرنے کا فیصلہ سنایا۔
ضمانت کنفرم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملزمہ کو مقدمے میں ضمانت حاصل ہوگئی ہے؛ اسے الزامات سے بری قرار دیے جانے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مقدمے میں نرس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور واقعے کی تفصیلات اپنی جگہ موجود ہیں، جبکہ عدالت کا موجودہ فیصلہ ضمانت سے متعلق ہے۔
اسپتالوں میں علاج معالجے کے دوران مریضوں کے لواحقین اور طبی عملے کے درمیان تنازعات پیدا ہونے کی صورت میں معاملے کو قانونی طریقہ کار کے مطابق حل کرنا اہم ہوتا ہے۔ طبی عملے کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور مریضوں کے لواحقین کی شکایات سننا اسپتال انتظامیہ کے لیے اہم ذمہ داریاں ہیں۔
READ MORE FAQS
راولپنڈی کارڈیالوجی اسپتال نرس کیس میں عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟
عدالت نے ملزمہ زربینہ بی بی کی عبوری ضمانت کنفرم کردی۔
ملزمہ کو کتنے روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے ہوں گے؟
عدالت نے 30 ہزار روپے مالیت کے ضمانتی مچلکے سات روز کے اندر جمع کرانے کا حکم دیا۔
مقدمے کی سماعت کس جج نے کی؟
مقدمے کا فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قاسم جاوید نے سنایا۔
زربینہ بی بی کے خلاف مقدمہ کس نے درج کروایا؟
اسٹاف نرس ستارہ سلیم نے تشدد اور کپڑے پھاڑنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔








