راولپنڈی ڈینگی کیسز کی تعداد 42 ہوگئی، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 5 مریض سامنے آئے
راولپنڈی ڈینگی کیسز میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 نئے مریض سامنے آنے کے بعد رواں سال ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 42 تک پہنچ گئی۔
محکمہ صحت کے مطابق اسپتالوں میں اس وقت 12 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 10 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ رواں سال اب تک ڈینگی کے باعث کسی مریض کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سرد ہونے تک ڈینگی کا خطرہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اسی لیے ڈینگی کی روک تھام کے لیے سرویلنس اور لاروا کی تلفی کی سرگرمیاں مسلسل جاری رکھی جا رہی ہیں۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ڈینگی کے شبہ میں اب تک 5 ہزار 161 افراد کی اسکریننگ کی جاچکی ہے، جن میں سے 4 ہزار 762 کیسز مشتبہ قرار دیے گئے۔
ماہانہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اکتوبر کے دوران اب تک ڈینگی کے 12 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ ستمبر میں 27 مریض سامنے آئے تھے۔ اس طرح حالیہ عرصے میں ڈینگی کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گھروں اور مختلف مقامات کی نگرانی بھی تیز کردی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی سرویلنس کے دوران اب تک 52 لاکھ 69 ہزار سے زائد گھروں کی چیکنگ مکمل کی جاچکی ہے۔
سرویلنس کے دوران ایک لاکھ 82 ہزار 850 گھروں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد متعلقہ مقامات پر انسدادی کارروائیاں کی گئیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی لاروا کے خلاف کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 798 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 686 مقامات کو سیل کیا گیا۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 2 ہزار 331 چالان بھی کیے گئے اور مجموعی طور پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
ڈینگی سرویلنس کے لیے راولپنڈی میں 1400 ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں۔ ان میں 415 آؤٹ ڈور جبکہ 985 ان ڈور ٹیمیں شامل ہیں، جو مختلف علاقوں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی، ہاٹ اسپاٹس اور ممکنہ افزائش گاہوں کی نگرانی کررہی ہیں۔
شہر میں ڈینگی ہاٹ اسپاٹس کی تعداد 17 ہزار 859 بتائی گئی ہے، جس کے باعث متعلقہ اداروں کی جانب سے حساس علاقوں میں سرویلنس پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
گزشتہ ہفتے ڈینگی سرویلنس کے دوران مجموعی طور پر 97 فیصد کوریج مکمل کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق چکلالہ کینٹ کے سی ٹی سی 8 میں سب سے زیادہ بریٹو انڈیکس 23.94 ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح تخت پڑی پوٹھوہار رورل میں بریٹو انڈیکس 19.96 رہا، جس سے ان علاقوں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کے حوالے سے خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈھوک نجّو، دھوکے بابو عرفان اور رتہ امرال بھی ڈینگی لاروا کے ہائی رسک علاقوں میں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے سرویلنس اور انسدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
راولپنڈی میں ڈینگی کیسز میں اضافے کے پیش نظر شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ گھروں اور اردگرد کے علاقوں میں پانی جمع ہونے سے روکنا، پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھنا اور ممکنہ افزائش گاہوں کو ختم کرنا ڈینگی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے ڈینگی سرویلنس کا سلسلہ جاری ہے جبکہ فیلڈ ٹیمیں ان ڈور اور آؤٹ ڈور دونوں سطحوں پر نگرانی کررہی ہیں۔ حکام کے مطابق موسم سرد ہونے تک ڈینگی کا خطرہ موجود رہ سکتا ہے، اس لیے انسدادی سرگرمیوں کو برقرار رکھا جائے گا۔
READ MORE FAQS
سوال: راولپنڈی میں ڈینگی کے کتنے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں؟
جواب: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 نئے مریض سامنے آنے کے بعد رواں سال ڈینگی کیسز کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔
سوال: راولپنڈی میں اس وقت کتنے ڈینگی مریض زیر علاج ہیں؟
جواب: اسپتالوں میں 12 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 10 میں ڈینگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔
سوال: رواں سال ڈینگی سے کتنی اموات ہوئی ہیں؟
جواب: محکمہ صحت کے مطابق رواں سال اب تک ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
سوال: راولپنڈی میں ڈینگی کا خطرہ کب تک برقرار رہے گا؟
جواب: محکمہ صحت کے مطابق موسم سرد ہونے تک ڈینگی کا خطرہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔






