خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر غور، نفاذ سے پہلے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے آخری کوشش

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر وفاقی کابینہ کا اجلاس

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی پر غور، حکومت کا آخری موقع دینے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور انتظامی معاملات پر غور کیا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کسی حتمی اقدام سے پہلے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے سیاسی رابطوں کی ایک اور کوشش کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

11 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت صوبے کی صورتحال سے متعلق آئینی راستوں پر غور کر رہی ہے، تاہم ایمرجنسی یا گورنر راج کے حتمی نفاذ کو منظور شدہ فیصلہ قرار دینے کے بجائے اسے زیر غور معاملہ سمجھنا ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے ذریعے آخری کوشش کی تجویز

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں یہ تجویز سامنے آئی کہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے سیاسی سطح پر آخری کوشش کی جائے۔

اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے ان سے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

حکومتی حلقوں میں اس رابطے کو سیاسی اختلافات کم کرنے اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر تعاون پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس رابطے کے نتیجے میں کسی حتمی معاہدے یا اتفاق رائے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

وفاقی کابینہ میں کن رہنماؤں نے شرکت کی؟

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک، احد چیمہ، مصطفیٰ کمال اور ہارون اختر سمیت دیگر حکومتی شخصیات کی شرکت بتائی گئی ہے۔

اجلاس کے ایجنڈے میں خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور گورننس سے متعلق معاملات شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اور حساس اداروں کی خصوصی رپورٹس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

دو برس میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے

فراہم کردہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر، مقامی سہولت کاروں اور صوبے میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات سے متعلق خامیوں کو سکیورٹی چیلنجز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان نکات میں صوبائی سطح پر تیاری، مؤثر حکمت عملی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مزید بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

رپورٹ میں دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو بھی امن و امان کے لیے سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ الزامات اور نتائج رپورٹ کے مندرجات کے طور پر سامنے آئے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق الگ معاملہ ہے۔

2026 میں پولیس اور سکیورٹی ادارے 73 فیصد حملوں کا نشانہ بنے

رپورٹ کے مطابق 2026 میں خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے۔

دستاویز میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا تھا، جبکہ 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں ایک سال کے دوران ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان اعدادوشمار کی بنیاد پر سکیورٹی اداروں کی نگرانی، دفاعی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔

آئی ای ڈی حملوں میں اضافہ، پولیس کی استعداد پر سوالات

خصوصی سکیورٹی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں بارودی حملوں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات (آئی ای ڈی) کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 181 تھی، جبکہ ستمبر 2026 تک 159 حملے ریکارڈ کیے جاچکے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے بدلتے طریقۂ کار کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ضروری ہے۔

خیبرپختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی

فراہم کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو جدید ہتھیاروں اور آپریشنل سازوسامان کی کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی کمی پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے علاوہ پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس جدید نگرانی اور انٹیلی جنس آلات، نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں۔ رپورٹ میں ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو تربیت، وسائل اور استعدادِ کار کے حوالے سے درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے لیے خصوصی افرادی قوت اور انفرا اسٹرکچر کی ضرورت

رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کو خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے اور افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے معمول کی پولیس پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

دستاویز میں سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولتوں اور خصوصی انفرا اسٹرکچر کو بھی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پورے خیبرپختونخوا کے لیے سیف سٹی منصوبہ تاحال پشاور تک محدود ہے۔ اس تناظر میں صوبے کے دیگر علاقوں میں نگرانی کے نظام، جدید ٹیکنالوجی اور پولیس کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی پہلو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ سیاسی اور آئینی اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے زیر غور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے حتمی فیصلے، متعلقہ آئینی تقاضوں اور سرکاری اعلان کی تفصیلات اہم ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد کی قیادت نے صوبے میں وفاقی اختیار بڑھانے کے لیے آئینی راستوں پر غور کیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم کابینہ میں کسی تجویز پر غور، سیاسی اتفاق رائے کی اطلاعات اور عملی نفاذ الگ الگ مراحل ہیں۔ اس لیے جب تک باضابطہ فیصلہ یا نوٹیفکیشن سامنے نہ آئے، ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

صدر اور وزیراعظم کی ملاقات بھی اہم پیش رفت

اس سے قبل صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی صورتحال اس ملاقات اور بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث اہم معاملات میں شامل رہی۔ صوبے میں امن و امان کی بہتری، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون آئندہ فیصلوں کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔

READ MORE FAQS

سوال: کیا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے؟

جواب: فراہم کردہ معلومات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے امکانات زیر غور ہیں، تاہم حتمی نفاذ کی تصدیق کے لیے باضابطہ اعلان ضروری ہے۔

سوال: مولانا فضل الرحمان سے اسحاق ڈار نے رابطہ کیوں کیا؟

جواب: ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے ان سے رابطہ کرکے خیبرپختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔

سوال: رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں کتنا اضافہ ہوا؟

جواب: فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:47 AM
طلوع آفتاب06:09 AM
ظہر11:55 AM
عصر03:11 PM
مغرب05:40 PM
عشاء07:03 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6