خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن؟ صدر زرداری اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، پارلیمنٹ کے اجلاس طلب

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیاسی اور ایمرجنسی صورت حال پر گفتگو

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن؟ صدر زرداری اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، پارلیمنٹ کے اجلاس طلب

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر وفاقی حکومت کی مشاورت جاری ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات میں ملکی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی حکومت کی ترجیح نہیں بلکہ آخری راستہ ہے، تاہم موجودہ حالات میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

صدر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق صدر زرداری اور وزیراعظم کی اہم ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منگل 13 اکتوبر کو طلب کیے جائیں گے۔ سرکاری بیان میں ملاقات کے دوران ایمرجنسی کے نفاذ کا حتمی فیصلہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی پر مشاورت جاری

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق سیاسی صورتحال
خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق تجاویز پر سیاسی رابطے جاری ہیں

وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان خیبرپختونخوا کی سکیورٹی پالیسی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سیاسی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات بھی ان اختلافات کے باعث آگے نہ بڑھ سکے تھے۔

وفاقی حکام کی جانب سے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ صوبے سے متعلق سکیورٹی فیصلوں میں اس کی حکومت کو مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ وفاقی حکومت اس مؤقف کی تردید کرتی رہی ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق حکومت جمہوری نظام پر یقین رکھتی ہے اور ایمرجنسی کو آخری راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات اور پس پردہ رابطوں سمیت مختلف راستے آزما چکی ہے، تاہم اگر کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تو آخری آپشن پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں کون شریک تھا؟

صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شریک تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان اور سید نوید قمر بھی ملاقات میں موجود تھے۔

صدر ہاؤس کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال زیر بحث آئی، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے پر اتفاق کیا گیا۔

طلال چوہدری کا خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کا سلسلہ

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے وفاق کی جانب سے تعاون اور وسائل کی فراہمی کے باوجود بعض ضروری اقدامات مکمل نہیں کیے گئے۔

نئی دہلی میں الیکشن چیف کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین کو حراست میں لیتے پولیس اہلکار
نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا چاہیے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر سیاسی احتجاج کو ترجیح دینے کا الزام بھی لگایا۔

یہ الزامات وفاقی حکومت کا مؤقف ہیں؛ صوبائی حکومت کی جانب سے ان نکات پر ردعمل اور وضاحت کو بھی معاملے کی مکمل تصویر کے لیے اہم سمجھا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاسی کشیدگی کم کرانے کی کوشش

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کی ملاقات بھی ہوئی، جس میں اہم قومی اور سیاسی معاملات پر مشاورت کی گئی۔

جے یو آئی (ف) کے ترجمان اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے روانگی سے قبل پی ٹی آئی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا۔

مولانا فضل الرحمان وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے ترجمان کے مطابق ان کی جماعت کی ترجیح دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کی بات کرتے ہوئے احتجاج کو سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق قرار دیا تھا۔

کیا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی؟

فی الحال دستیاب سرکاری بیان میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے بھی واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور ایمرجنسی کو آخری راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کیے جانے کا اعلان سامنے آیا ہے، تاہم ان اجلاسوں میں ایمرجنسی کے معاملے پر کیا پیش رفت ہوگی، اس کی حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

سیاسی رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے ساتھ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ کسی بھی حتمی فیصلے کی تصدیق سرکاری اعلان اور متعلقہ آئینی و پارلیمانی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

 
READ MORE FAQS”
  1. کیا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہے؟
    دستیاب رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی؛ وفاقی حکومت کی مشاورت جاری ہے۔
  2. صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں کیا بات ہوئی؟
    صدر ہاؤس کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔
  3. قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کب ہوں گے؟
    صدر ہاؤس کے بیان کے مطابق دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس منگل، 13 اکتوبر 2026 کو طلب کیے گئے ہیں۔
  4. طلال چوہدری نے ایمرجنسی کے بارے میں کیا کہا؟
    انہوں نے ایمرجنسی کو آخری راستہ قرار دیا اور کہا کہ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:46 AM
طلوع آفتاب06:08 AM
ظہر11:55 AM
عصر03:12 PM
مغرب05:41 PM
عشاء07:04 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6