اسلام آباد اتوار بازار بند: ایچ نائن کے دکاندار سی ڈی اے کے خلاف سڑک پر، شہری سستی خریداری سے محروم
اسلام آباد: اسلام آباد اتوار بازار بند ہونے کی خبر نے وفاقی دارالحکومت کے ہزاروں شہریوں اور سینکڑوں دکانداروں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کی بنیاد پر ایچ نائن اتوار بازار بند کر دیا گیا، جس کے خلاف دکانداروں نے احتجاج کیا اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، یعنی سی ڈی اے کے خلاف نعرے لگائے۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حفاظتی انتظامات پر کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں۔ یہ دعویٰ ان کا اپنا ہے اور سی ڈی اے کی جانب سے اس پر تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
بازار کے باہر 200 سے 250 دکانداروں نے دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ بازار کو فوری طور پر کھولا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتوار بازار ان کی روزی کا بڑا ذریعہ ہے اور ایک دن کی بندش بھی ان کے لیے مالی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ ایسے بازاروں میں بہت سے چھوٹے دکاندار اور ریڑھی بان ایسے ہوتے ہیں جو پورے ہفتے کی کمائی اسی ایک دن سے پوری کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کا غصہ اور بے چینی سمجھ میں آتی ہے۔ بازار کے باہر پولیس نفری بھی تعینات ہے، جو عموماً ایسے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ فی الحال کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب جی سکس میں لگنے والا ہفتہ وار بازار بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ صرف ایک بازار تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیکٹروں کے ہفتہ وار بازار متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں یہ بازار عام شہریوں کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ یہاں پھل، سبزی اور روزمرہ کی اشیا عموماً عام دکانوں کے مقابلے میں نسبتاً کم قیمت پر مل جاتی ہیں۔ جب یہ بازار بند ہوں تو سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں پر پڑتا ہے، جو ہر ہفتے یہاں سے گھر کا سودا خریدنے کے عادی ہوتے ہیں۔
فائر سیفٹی کا مسئلہ اور ماضی کے واقعات
ایچ نائن اتوار بازار کی بندش کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ جون 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بازار میں ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی تھی، جس میں 70 سے زیادہ دکانیں جل گئیں اور دکانداروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس بازار میں ماضی میں بھی کئی بڑے آتشزدگی کے واقعات ہو چکے ہیں اور کاروباری افراد نے سوال اٹھایا تھا کہ مستقل حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ یعنی دکانداروں کی ایک شکایت یہ بھی رہی ہے کہ حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں، اور اب انتظامیہ انہی انتظامات کی کمی کو بندش کی وجہ بنا رہی ہے۔ یہ تضاد اس پورے معاملے کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
فائر سیفٹی کے معاملے پر سی ڈی اے کی سختی صرف اتوار بازار تک محدود نہیں۔ رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے نے فائر اور لائف سیفٹی معیارات پر عمل نہ کرنے والی کئی عمارتیں سیل کی ہیں، اور چیئرمین نے سنگین خلاف ورزیوں پر صفر برداشت کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس لحاظ سے بازاروں کی بندش ایک وسیع تر مہم کا حصہ دکھائی دیتی ہے جس کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ بتایا جاتا ہے۔ جہاں سینکڑوں دکانیں، ہزاروں لوگ اور تنگ راستے ایک ہی جگہ جمع ہوں، وہاں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑے سانحے میں بدل سکتی ہے، اس لیے حفاظت کے مطالبے کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف دکانداروں کا موقف بھی توجہ کا مستحق ہے۔ اگر انہوں نے واقعی کروڑوں روپے حفاظتی انتظامات پر لگائے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کون سی کمی باقی ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔ جب تک سی ڈی اے کی جانب سے واضح فہرست اور ڈیڈ لائن سامنے نہیں آتی، دکاندار اندھیرے میں رہیں گے اور بند بازار کھلنے کے انتظار میں مزید نقصان اٹھائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ دونوں فریق ایک مشترکہ معائنے پر متفق ہوں، تاکہ حقائق سب کے سامنے آ جائیں۔
شہریوں کی مشکلات اور آگے کا راستہ
بازاروں کی بندش کا سب سے براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑا ہے۔ دکانیں بند ہونے کی وجہ سے وہ سستی اشیا کی خریداری سے محروم ہو گئے ہیں۔ جو لوگ اتوار کے دن پورے ہفتے کی سبزی اور پھل لے جاتے تھے، انہیں اب مجبوراً اوپن مارکیٹ کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں سبزیاں سرکاری ریٹ سے دگنا سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ اطلاع مختلف ذرائع سے سامنے آئی ہے اور اصل نرخ علاقے اور دکان کے حساب سے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر یہ بات واضح ہے کہ جب سستے بازار بند ہوں تو مہنگائی کا بوجھ سیدھا گھریلو بجٹ پر آتا ہے۔
شہریوں کے لیے ایک عملی مشورہ یہ ہے کہ وہ خریداری سے پہلے سرکاری نرخنامہ دیکھ لیں اور اگر کوئی دکاندار واضح طور پر زیادہ قیمت وصول کرے تو متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا پرائس کنٹرول کے محکمے کو شکایت کریں۔ اس کے علاوہ محلے کی سطح پر لگنے والی دیگر سستی منڈیاں یا سرکاری سہولت بازار بھی کچھ حد تک متبادل بن سکتے ہیں، تاہم ان کی دستیابی علاقے پر منحصر ہے۔
اب سب کی نظریں سی ڈی اے کی وضاحت پر ہیں۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ بازار کب تک بند رہیں گے، کن شرائط پر دوبارہ کھلیں گے اور ہفتہ وار بازاروں کے لیے کیا لائحہ عمل ہوگا۔ ایسے تنازعات میں عموماً کئی راستے اختیار کیے جاتے ہیں، جیسے مشترکہ معائنہ، باقی ماندہ حفاظتی تقاضوں کی واضح فہرست، مرحلہ وار بازار کھولنا یعنی پہلے وہ حصے جہاں انتظامات مکمل ہوں، اور حفاظتی آلات کی سرٹیفیکیشن۔ اگر یہ سب شفافیت سے ہو تو حفاظت اور روزگار دونوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ اسلام آباد اتوار بازار بند ہونے کا معاملہ عوامی تحفظ اور دکانداروں کے روزگار کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔ ماضی کی آتشزدگیاں حفاظت کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں، جبکہ بند بازاروں کے باہر بیٹھے دکاندار اور سستی خریداری سے محروم شہری اس مسئلے کے انسانی پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کا پائیدار حل یہی ہے کہ سی ڈی اے اور دکاندار مل کر واضح شرائط طے کریں اور جلد از جلد بازار محفوظ انداز میں بحال کیے جائیں۔
Read more FAQs
1. اسلام آباد اتوار بازار بند کیوں کیے گئے؟
اطلاعات کے مطابق فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ایچ نائن اتوار بازار بند کیا گیا ہے۔
2. دکانداروں نے کیا مطالبہ کیا؟
200 سے 250 دکانداروں نے دھرنا دے کر بازار فوری کھولنے کا مطالبہ کیا۔
3. کیا جی سکس کا ہفتہ وار بازار بھی بند ہے؟
جی ہاں، اطلاعات کے مطابق جی سکس کا ہفتہ وار بازار بھی بند کر دیا گیا ہے۔
4. دکانداروں کا حفاظتی انتظامات کے بارے میں کیا دعویٰ ہے؟
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حفاظتی انتظامات پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ اس کی آزادانہ تصدیق فی الحال سامنے نہیں آئی۔
5. سبزیوں کی قیمتوں پر کیا اثر پڑا؟
بتایا جا رہا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں سبزیاں سرکاری ریٹ سے دگنا سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔
6. بازار دوبارہ کب کھلیں گے؟
اس بارے میں سی ڈی اے کی جانب سے حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ تازہ معلومات کے لیے سی ڈی اے کے سرکاری بیانات دیکھتے رہیں۔






